خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 433
خطبات مسرور جلد سوم 433 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005 ء تھے، چاہے وہ تھوڑے سے ہی ہوں، آپ اس یقین کے ساتھ کہ اس کھانے میں خدا تعالیٰ میری دعا سے برکت ڈال دے گا، اپنے صحابہ کو بھی بلا لیا کرتے۔ان لوگوں کو بھی بلا لیا کرتے تھے جو وہاں بھوکے بیٹھے ہوا کرتے تھے تاکہ ان کی بھی اس انتظام کے تحت مہمان نوازی ہو جائے۔ایک واقعہ کا یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے گھر کے قریب سے گزرتے تو ان کے گھر آتے اور ان کو سلام کہتے۔حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت نبی کریم کی شادی حضرت زینب بنت جحش سے ہوئی تو مجھے میری والدہ ام سلیم نے کہا کہ اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تحفہ بھیجیں تو کتنا اچھا ہو گا۔اس پر میں نے کہا بھیج دیں۔تو میرے کہنے کے بعد میری والدہ نے کھجور لی اور پنیر کو ایک برتن میں ڈالا اور ان کو ملا کر خنیس نامی کھانا تیار کیا اور پھر وہ کھانا مجھے دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے ارشاد فر ما یا اس برتن کو رکھو۔پھر کچھ آدمیوں کا نام لے کر فرمایا کہ ان کو بلالا ؤ اور ہر وہ شخص جو تمہیں ملے اسے کہنا کہ میں بلا رہا ہوں۔حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق کیا۔جب میں واپس آیا تو گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا۔پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنا دست مبارک اس کھانے پر رکھا اور اس کو برکت دینے کے لئے کچھ دیر دعا کرتے رہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس دس افراد کو بلانے لگے جو اس برتن میں سے کھاتے تھے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو فرماتے تھے کہ بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ اور ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ان سب کو بلاتے رہے یہاں تک کہ ان سب نے کھانا کھا لیا۔( بخاری۔کتاب النكاح۔باب الهدية للعروس ) دیکھیں کتنا خیال تھا کہ کھانا آیا ہے تو باقیوں کو بھی کھلایا جائے۔جو بھو کے ہیں ان کی بھی مہمان نوازی ہو جائے۔یہ تھے آپ کے مہمان نوازی کے طریقے کہ بھوکوں ، ضرورت مندوں کو بلا کر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کھانا کھلاتے اور مہمان نوازی فرمایا کرتے تھے۔پھر صرف یہی نہیں کہ آپ نے عارضی طور پر کبھی کبھی مہمان بلائے اور مہمان نوازی کر دی، بلکہ ایسا بھی ہوا کہ