خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 432 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 432

خطبات مسرور جلد سوم 432 خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005ء سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا لیا اور تناول فرمایا اور پھر فرمایا کہ بسم اللہ کر کے کھائیں۔پھر ہمیں بھی دیا۔چنانچہ ہم نے اس کھانے میں سے اس طرح کھایا کہ ہم اسے دیکھ نہیں رہے تھے۔پھر اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! کیا تمہارے پاس پینے کو کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، حریرہ ہے جو میں نے آپ کے لئے تیار کیا ہے۔فرمایا: لے آؤ۔حضرت عائشہ وہ لائیں تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا اور برتن کو اپنے منہ کی طرف بلند کیا۔تھوڑ اسا نوش کر کے فرمایا: بسم اللہ کر کے پینا شروع کرو۔پھر ہم اس سے اس طرح پینے لگے کہ ہم اسے دیکھ نہیں رہے تھے۔پھر اس کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے مسجد میں چلے آئے اور یہاں آنے کے بعد روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم کہاں سونا چاہتے ہو؟ یہاں رہنا ہے یا مسجد جانا ہے؟ تو سب نے کہا ہم مسجد جا کے سوئیں گے۔تو کہتے ہیں ہم مسجد چلے گئے اور وہاں جا کے سو گئے اور صبح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ،نماز کے لئے ہر ایک کو جگایا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 426 مطبوعه بيروت) اس روایت میں جو ہے کہ پہلے آپ نے اس کو پیا اس سے یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ شاید اس لئے کہ آپ نے سمجھا کہ میرا پہلے حق ہے میں پی لوں ، بلکہ اس لئے کہ اس کی مقدار تھوڑی تھی اور آپ کو پتہ تھا کہ آپ کے پہلے منہ لگانے سے اس میں برکت پیدا ہوگی اور آپ کی دعا سے یہ کھانا مہمانوں کے لئے کافی ہو جائے گا۔اس لئے آپ نے پہلے شروع کیا۔اور پھر مہمانوں کے آرام کے لئے فرمایا کہ جاؤ اب سو جاؤ ، جہاں بھی سونا چاہتے ہو۔پھر نماز کے لئے جگایا۔مہمان نوازی کے زمرے میں یہ بھی ہے کہ جب مہمان آئیں اگر وہ آپ کے ہم مذہب ہیں تو ان کو نمازوں کی طرف بھی توجہ دلائی جائے، صبح اٹھایا جائے۔یہاں بھی ہمارے جلسے پر اسی لئے انتظام ہوتا ہے تا کہ لوگ نمازوں میں شامل ہوسکیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کی حالت کا اندازہ تھا کہ وہ کس طرح فاقہ کشیاں کرتے ہیں۔غربت کا زمانہ تھا اور سب سے زیادہ جو اس دور سے گزرتے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تھے۔فاقے کی حالت میں ہوتے تھے اور جب بھی کھانے کے ظاہری اسباب میسر آتے