خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 429
خطبات مسرور جلد سوم 429 (28) خطبہ جمعہ 22 جولائی 2005 ء آنحضرت صلی للہا علم کی پاکیزہ سیرت کا ایک خلق مهمان نوازی جلسه سالانه برطانیه کے حوالہ سے مہمانوں کی خدمت کا حق ادا کرنے سے متعلق تاكيدى نصائح خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جولائی 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن۔برطانیہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :۔مہمان نوازی انبیاء کے خُلق میں سے ایک اعلیٰ خلق ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں اس کو یوں بیان فرمایا ہے کہ جب آپ کے پاس معزز مہمان آئے تو سب سے پہلا کام جو آپ نے کیا وہ یہ تھا کہ ﴿فَرَاغَ إِلى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِيْنٍ ﴾ الذاريات : 27) یعنی وہ جلدی سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک موٹا تازہ بھنا ہوا بچھڑا لے آیا۔تو آپ نے مہمانوں سے یہ نہیں پوچھا کہ ڈور سے آئے ہو یا نز دیک سے آئے ہو، یا بھوک لگی ہے یا نہیں لگی ، کھانا کھاؤ گے یا نہیں کھاؤ گے، بلکہ فوری طور پر گھر کے اندر گئے اور کھانا تیار کروا کر لے آئے۔تو یہ خلق ہے جو اللہ والوں کا مہمانوں کے ساتھ ہوتا ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں کا جامع اور افضل الرسل فرمایا ہے ان میں تو یہ خلق ایسا قائم تھا۔جس کی مثال نہیں۔بلکہ زمانہ نبوت سے پہلے بھی آپ کا یہ خلق ایسا تھا کہ دوسروں کو متاثر کیا کرتا نا۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی اور آپ بڑے سخت گھبرائے