خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 428
خطبات مسرور جلد سوم 428 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005 ء بننے والوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی جماعت کے لئے کی گئی دعاؤں کے وارث بننے والے ہوں۔اور ہمیشہ اپنے عہدوں کا حق ادا کرنے والے، عہدوں کو پورا کرنے والے، اپنی امانتوں کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ایک اور بات میں کہنی چاہتا ہوں۔آجکل دنیا کے بعض ممالک میں جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے اور جہاں با قاعدہ جماعت احمدیہ بھی ہے وہاں مخالفین بڑے سرگرم ہوئے ہوئے ہیں۔ہماری پہنچ تو دنیاوی طاقت کے لحاظ سے نہ کسی دنیاوی بادشاہ تک یا صدر تک یا کسی اور تک ہے اور نہ ہی اُن پر ہمارا انحصار ہے۔ہم تو اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والے اور اسی سے مدد مانگنے والے ہیں۔اس لئے خاص طور پر ان دنوں میں بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر نشر سے محفوظ رکھے۔خاص طور پر آج کل انڈونیشیا میں کافی فساد پھیلا ہوا ہے۔گزشتہ دنوں میں وہاں ہمارا جلسہ ہورہا تھا اور مخالفین نے حملہ کیا۔کچھ احمدی زخمی بھی ہوئے اور اس کے بعد خبریں آرہی تھیں کہ آج وہاں کے ایک شہر میں (اس کا نام مجھے بھول گیا ) وہاں حملے کا پروگرام تھا۔تو آج انہوں نے جمعہ کے وقت وہ حملہ کیا ہے۔اور کچھ احمدی وہاں زخمی بھی ہوئے ہیں اور انتظامیہ کا تعاون بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔مسجد انتظامیہ نے ہمارے آدمیوں سے خالی کروالی ہے۔تو بہر حال اللہ تعالیٰ خود ہی ان مخالفین سے نمٹے اور جماعت کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔یہ تو بہر حال ہمیں پتہ ہے اور ہر ایک احمدی کو علم ہونا چاہئے کہ جماعت کی ترقی جب بھی ہوگی یہ باتیں بھی ہوں گی۔دشمن کی حسرت کی آگ بھڑ کے گی۔لیکن جب دشمن کی حسرت کی آگ بھڑکتی ہے تو احمدی کا بھی کام ہے کہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جائے اور دعائیں کرے۔اپنے لئے دعائیں کرے، ایمان کی ترقی کے لئے دعائیں کرے، جو عہد بیعت باندھا ہے اس کو پورا کرنے کے لئے دعائیں کرے اور مجموعی طور پر جماعت کے لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔اور یہ بھی دعائیں کرے کہ اللہ تعالیٰ متاثرہ احمدیوں کو بھی حوصلہ دے اور صبر دے اور استقامت دے اور ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔(آمین )