خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 425 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 425

خطبات مسرور جلد سوم 425 خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005ء ابو جندل ! تم چند روز اور صبر کرو۔عنقریب خدا وند تعالیٰ تمہارے واسطے کشادگی پیدا کرے گا۔میں مجبور ہوں ” وَاَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَاعْطُوْنَا عَهْدَ اللَّهِ وَإِنَّا لَا نَغْدُرُ بِهِمْ “ کہ ہم نے اس بارے میں ایک دوسرے سے معاہدہ کر لیا ہے اور ہم ان سے کئے گئے عہد کی ہرگز بد عہدی نہیں کریں گے۔(السيرة النبوية لابن هشام۔امر الحديبية۔ما أهم الناس من الصلح ومجئ ابي جندل) دیکھیں سب سے زیادہ تکلیف اور صدمہ تو آپ کو اس واقعے سے پہنچا ہو گا۔لیکن آپ نے عہد کا پاس کیا۔اس کی پابندی کی۔حالانکہ عہد ابھی لکھا ہی گیا تھا۔شاید اس کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی ہو۔اور اس دوران ابو جندل وہاں پہنچ چکے تھے۔لیکن آپ جو معاہدوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے تھے، آپ جو اس بات کا سب سے زیادہ ادراک رکھتے تھے کہ اپنے عہدوں کی پابندی اور نگرانی کرو۔آپ نے فرمایا کہ صبر کرو، ہمیں مجبور ہوں اور عہد پر عمل کا پابند ہوں۔اور پھر دیکھیں عہد کی پابندی کا اجر اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا دیا اور ان مظلوموں اور مجبوروں کے صبر کا پھل کتنا بڑا دیا کہ خود کفار سے ہی ایسی حرکتیں سرزد ہو گئیں جن سے عہد ختم ہو گیا، معاہدہ ٹوٹ گیا اور آخر اس کے نتیجہ میں فتح مکہ ہوئی۔پھر دیکھیں جنگوں میں اور خاص طور پر جنگ بدر میں جب مسلمان بہت ہی کمزور تھے۔جتنی بھی مددمل جاتی اتنی ہی کافی تھی کیونکہ کفار بھر پور رنگ میں تیار ہو کر آئے تھے۔آپ نے عہد کی پابندی کی خاطر دو اشخاص کو جنگ میں حصہ لینے سے روک دیا۔اس واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے کہ حذیفہ بن یمان روایت کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں شریک ہونے کے لئے مجھے یہ بات مانع ہوئی ، روک یہ بن گئی کہ میں اور ابو حُسَیل نکلے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہا کہ تم محمد (ﷺ) سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہو۔ہم نے کہا ہمارا یہ ارادہ نہیں ہے۔ہمارا ارادہ صرف مدینہ جانے کا ہے۔انہوں نے ہم سے عہد لے کر چھوڑا کہ ہم مدینہ جائیں گے اور محمد (ع) کے ساتھ مل کر جنگ نہیں کریں گے۔چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کو اس واقعہ سے جو ہمیں پیش آیا تھا آگاہ کیا۔یہ سن کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں جاؤ اور ان سے کیا ہوا عہد پورا کرو۔ہم ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی مد