خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 372
خطبات مسرور جلد سوم 372 خطبہ جمعہ 24 / جون 2005ء ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو وقت مقررہ تو علیحدہ رہا ، نمازوں میں اکثر ستی کر جاتے ہیں۔کیا ایسا کر کے ہم اس حکم پر عمل کر رہے ہیں کہ حَفِظُوْا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطَى - وَقُوْمُوا لِلَّهِ قَنِتِينَ﴾ (البقرة: 239) تو نمازوں کا اور خصوصاً درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو۔اور اللہ کے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔پس ہر احمدی کو اپنی نمازوں کی حفاظت کی طرف توجہ دینی چاہئے اور انہیں وقت مقررہ پر ادا کرنا چاہئے۔اگر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں لے کر آنا ہے، اگر تو حید کو قائم کرنے کا دعویٰ کرنے والا بننا ہے تو اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے ہوں گے۔اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی ہوگی ، کاموں کے عذر کی وجہ سے دو پہر کی یا ظہر کی نماز اگر آپ چھوڑتے ہیں تو نمازوں کی حفاظت کرنے والے نہیں کہلا سکتے۔بلکہ خدا کے مقابلے میں اپنے کاموں کو ، اپنے کاروباروں کو اپنی حفاظت کرنے والا سمجھتے ہیں۔اور اگر فجر کی نماز تم نیند کی وجہ سے وقت پر ادا نہیں کر رہے تو یہ دعویٰ غلط ہے کہ ہمارے دلوں میں خدا کا خوف ہے اور ہم اس کے آگے جھکنے والے ہیں۔اسی طرح کوئی بھی دوسری نماز اگر عادتا یا کسی جائز عذر کے بغیر وقت پر ادا نہیں ہو رہی تو وہی تمہارے خلاف گواہی دینے والی ہے کہ تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم خدا کا خوف رکھنے والے ہیں لیکن عمل اس کے برعکس ہے۔اور جب یہ نمازوں میں بے تو جنگی اسی طرح قائم رہے گی اور نمازوں کی حفاظت کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو پھر یہ رونا بھی نہیں رونا چاہئے کہ خدا ہماری دعائیں نہیں سنتا۔نمازوں کی حفاظت اور نگرانی ہی اس بات کی ضامن ہوگی کہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو گنا ہوں اور غلط کاموں سے پاک رکھے۔ہماری نمازوں میں با قاعدگی یقیناً ہمارے بچوں میں بھی یہ روح پیدا کرے گی کہ ہم نے بھی نمازوں میں با قاعدہ ہونا ہے۔اس کی اسی طرح حفاظت کرنی ہے جس طرح ہمارے والدین کرتے ہیں۔اور جب یہ بات ان بچوں کے ذہنوں میں راسخ ہو جائے گی ، بیٹھ جائے گی کہ ہم نے نمازوں میں با قاعدگی اختیار کرنی ہے تو پھر والدین کو یہ چیز اس فکر سے بھی آزاد کر دے گی کہ اس مغربی معاشرے میں جہاں ہزار قسم کے کھلے گند اور برائیاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، ہر وقت والدین کو یہ فکر رہتی ہے کہ ان کے بچے اس گند میں کہیں