خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 324 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 324

خطبات مسرور جلد سوم 324 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء اٹھا ئیں۔پس جب تک ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ان تمام نعمتوں سے حصہ لیتی رہے گی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں جن کے بارہ میں بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر احمدی کو اخلاص و وفا اور اعمال صالحہ میں بڑھاتا چلا جائے اور ہمیشہ وہ خلافت سے جڑے رہیں۔اس دورے کے دوران ایک افسوسناک سانحہ بھی ہوا جس کا طبیعت پر بڑا اثر رہا۔زیمبیا سے ایک وفد آیا ہوا تھا واپس جاتے ہوئے ان کا ایک حادثہ ہو گیا جس میں ہمارے غانین معلم جو وہاں تعینات تھے ابراہیم صاحب، ان کے سمیت پانچ احمدی شہید ہو گئے۔ان میں ایک غیر احمدی ڈرائیور بھی شامل تھا۔لیکن اس حادثے نے ان کے ایمان میں کمزوری نہیں پیدا کی بلکہ ان بچنے والوں اور وفات یافتگان کے عزیزوں کا تعلق جماعت سے اور بڑھا ہے۔اور انہوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کی تقدیر سمجھا اور رضا سمجھا اور یہ اظہار کیا کہ موت تو کہیں بھی آسکتی تھی۔تو اللہ تعالیٰ ان سب کو جو زندہ ہیں ان کو ایمان میں اور مضبوط کرے اور جو وفات یافتہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت و مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے۔یہ جو ہمارے غانین مبلغ تھے بہت وفا کا تعلق رکھنے والے، بہت خوبصورت نوجوان تھے۔ابھی تک میری نظروں کے سامنے ان کا مسکراتا چہرہ گھوم جاتا ہے اور ملاقات کے وقت یہ عزم کر کے گئے تھے کہ ہم نئے سرے سے جماعت کے پیغام اور تربیت کے کام کو آگے بڑھائیں گے۔ان کے ساتھ ان کی بیچاری پوری فیملی گئی۔ان کی بیوی اور دو بچے بھی سفر کر رہے تھے۔موقع پر وہیں ان کی اہلیہ اور ایک بچہ بھی شہید ہو گئے۔اور ایک بچہ جس کی عمر پانچ سال ہے بچ گیا تھا۔تو بہر حال اس بچے کے ذہن پر بھی حادثے کا بہت اثر ہوگا۔اس کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے آئندہ ہر دکھ سے بچائے۔ان سب کی میتیں غانا بھجوائی گئی ہیں جہاں ان کی تدفین ہوئی۔اللہ تعالیٰ سب کے درجات بلند کرے۔ان کی بلندی درجات کے لئے دعا کریں۔ابھی جمعہ کی نماز کے بعد میں ان سب کا جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔