خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 323

خطبات مسرور جلد سوم بہت توجہ دینی چاہئے۔323 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء پھر جماعت کی ترقی اور خلافت کے قیام اور استحکام کے لئے ضرور روزانہ دو نفل ادا کرنے چاہئیں۔ایک نفلی روزہ ہر مہینے رکھیں اور خاص طور پر اس نیت سے کہ اللہ تعالیٰ خلافت کو جماعت احمدیہ میں ہمیشہ قائم رکھے۔اس کے بعداب میں پھر یہی کہتا ہوں کہ اگر کسی کے دل میں شہر ہے تو استغفار کرے اور اسے نکال دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت اس قدر پھیل چکی ہے اور ایمان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہی ہے کہ باوجود رابطوں کی سہولیات نہ ہونے کے انشاء اللہ تعالیٰ خلافت سے دور ہٹانے کی کوئی سکیم، کوئی منصو بہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ضمناً یہ بتا دوں کہ گو میں مشرقی افریقہ کے تین ملکوں کا دورہ کر کے آیا ہوں اور وہاں اندرون ملک غریب جماعتوں تک پہنچنے کی کوشش بھی کی ہے۔لیکن بعض دوسرے ممالک مثلاً ایتھوپیا، صومالیہ، برونڈی، کانگو، موزمبیق، زیمبیا، زمبابوے وغیرہ کے لوگ بھی وفود کی شکل میں آئے ہوئے تھے اور ان سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔بعض لوگ تو سفر کی سہولتیں نہ ہونے اور کچی سڑکیں ہونے کے باوجود دو اڑھائی ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے آئے تھے۔اور غربت کے باوجود اپنے خرچ کر کے آئے تھے۔ان کی کوئی مد نہیں کی گئی۔دنیاوی لیڈروں اور بادشاہوں کے لئے بھی لوگ جمع ہو جاتے ہیں لیکن بعض جگہ ان کو گھیر کے لایا جاتا ہے۔پاکستان وغیرہ میں تو اکثر اسی طرح ہوتا ہے، لے کر آجاتے ہیں اور جانے کے لئے پھر بیچاروں کے پاس پیسے نہیں ہوتے لیکن وہ اپنے ملک کے لوگ ہیں ان کے لئے اکٹھے بھی کر لیتے ہیں۔لیکن ایک ایسا شخص جو نہ ان کی قوم کا ہے، نہ ان کی زبان جانتا ہے، نہ اور کوئی چیز کا من ہے اگر مشترک ہے تو ایک چیز کہ وہ احمدی ہیں اور خلافت سے تعلق رکھنے والے ہیں۔تو اسی لئے وہ اس قدر تر دو کر کے آئے تھے اور یقینا ان کو خلافت سے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے۔اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کی وجہ سے انہوں نے یہ اتنی تکلیفیں