خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 308 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 308

خطبات مسرور جلد سوم 308 خطبہ جمعہ 27 رمئی 2005 ء خلیفہ اللہ تھے جس نے چودھویں صدی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی شریعت کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنا تھا اور آپ کے بعد پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آپ کا سلسلہ خلافت تا قیامت جاری رہنا تھا۔پس آج 7 9 سال گزرنے کے بعد جماعت احمدیہ کا ہر بچہ، جوان، بوڑھا ، مرد اور عورت اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی اس بارے میں فعلی شہادت گزشتہ 97 سال سے پوری ہوتی دیکھی ہے اور دیکھ رہا ہوں۔اور نہ صرف احمدی بلکہ غیر از جماعت بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔گزشتہ مثالیں تو بہت ساری ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی وفات کے بعد ، پھر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد، پھر حضرت مصلح موعودؓ کی وفات کے بعد۔لیکن جیسے کہ میں پہلے بھی ایک دفعہ بتا چکا ہوں کہ خلافت خامسہ کے انتخاب کی کارروائی دیکھ کر ، جو ایم ٹی اے پر دکھائی گئی تھی ،مخالفین نے یہ اعتراف کیا کہ تمہارے بچے ہونے کا تو ہمیں پتہ نہیں لیکن یہ بہر حال پتہ لگ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت تمہارے ساتھ ہے۔تو بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر بہت بڑا احسان ہے اور اس کی نعمت ہے جس کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔اور یہ شکر ہی ہے جو اس نعمت کو مزید بڑھاتا چلا جائے گا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ یعنی اگر تم شکر گزار بنے رہو تو میں اور بھی زیادہ دوں گا۔اس نعمت کے جو افضال ہیں ان سے میں تمہیں بھرتا چلا جاؤں گا۔بہر حال ایک تو اس دن کی اہمیت کی وجہ سے، آج 27 مئی ہے، اور دوسرے جو اس خطبے کا محرک بنا ہے وہ ایک مضمون ہے جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا تھا لیکن آج کل اس کو کوئی شخص مختلف لوگوں کو بھیج رہا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو خلافت کا مقام واضح کرنے کے لئے لکھا تھا اور اس کی وضاحت میں اپنے ذوق کے مطابق اس بات کا بھی ذکر فرمایا تھا کہ خلافت جماعت احمدیہ میں کب تک چلے گی یا اس کی کیا صورت ہو گی۔لیکن یہ بات بہر حال واضح ہے اور اس میں رتی بھر بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ جماعت میں کسی وقت بھی کسی انتشار کا پھیلانا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے ذہن