خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 298

خطبات مسرور جلد سوم 298 خطبہ جمعہ 13 رمئی 2005 ء خدا کا امتحان نہیں کرو گے اور تعلق کو نہیں تو ڑو گے بلکہ آگے قدم بڑھاؤ گے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک خاص قوم ہو جاؤ گے۔تم بھی انسان ہو جیسا کہ میں انسان ہوں اور وہی میرا خدا تمہارا خدا ہے۔پس اپنی پاک قوتوں کو ضائع مت کرو۔اگر تم پورے طور پر خدا کی طرف جھکو گے تو دیکھو میں خدا کی منشاء کے موافق تمہیں کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک قوم برگزیدہ ہو جاؤ گے۔خدا کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اس کی توحید کا اقرار نہ صرف زبان سے بلکہ عملی طور پر کرو تا خدا بھی عملی طور پر اپنا لطف و احسان تم پر ظاہر کرے۔پھر فرمایا کہ: ”تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔اُن کے لئے موقع ہے کہ اپنے جو ہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں۔فرمایا کہ: ” یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ پیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا“۔(رساله الوصيت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحه 308-309) پس دیکھیں آپ لوگ جو افریقہ کے اس ملک میں بیٹھے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درخت وجود کی شاخیں ہی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق آپ کی جماعت کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دیا ہے۔مخالفین کہتے ہیں کہ یہ شخص جھوٹا ہے، یہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کرنے والا ہے۔کیا اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے والوں اور تقویٰ سے ہٹے ہوئے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ یہ سلوک فرماتا ہے؟ پس یہ مخالفین جھوٹے ہیں اور یقیناً جھوٹے ہیں۔آپ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے ، اُس کے آگے جھکتے ہوئے ، تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند مسیح زمان کی جماعت سے چھٹے رہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو ذاتی طور پر بھی اور بحیثیت جماعت بھی اپنے وعدے