خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 263
خطبات مسرور جلد سوم 263 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005 ء۔پھر جنگ حنین میں آپ کی بہادری کی روایت ملتی ہے۔ابو اسحاق سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص حضرت براء کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے جنگ حنین کے موقع پر دشمن کے مقابلے پر پیٹھ پھیر لی تھی؟۔تو انہوں نے جواب دیا کہ میں سب کے بارے میں تو کچھ نہیں کہ سکتا لیکن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ضرور گواہی دوں گا کہ آپ نے دشمن کے شدید حملے کے وقت بھی پیٹھ نہیں پھیری تھی۔پھر انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہوازن قبیلے کے خلاف جب مسلمانوں کا لشکر نکلا تو انہوں نے بہت ہلکے پھلکے ہتھیار پہنے ہوئے تھے یعنی ان کے پاس زرہیں وغیرہ اور بڑا اسلحہ نہیں تھا اور ان میں بہت سے ایسے تھے جو بالکل نہتے تھے۔لیکن اس کے مقابل پر ہوازن کے لوگ بڑے کہنہ مشق تیرانداز تھے۔جب مسلمانوں کا لشکر ان کی طرف بڑھا تو انہوں نے اس لشکر پر تیروں کی ایسی بوچھاڑ کر دی جیسے ٹڈی دل کھیتوں پر حملہ کرتی ہے۔اس حملے کی تاب نہ لا کر مسلمان بکھر گئے۔لیکن اُن کا ایک گروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا۔حضور ایک خچر پر سوار تھے جسے آپ کے چچا ابوسفیان بن حارث لگام سے پکڑے ہوئے ہانک رہے تھے۔جب مسلمانوں کو اس طرح بکھر تے ہوئے دیکھا تو آپ کچھ وقفے کے لئے اپنے خچر سے نیچے اترے اور اپنے مولا کے حضور دعا کی۔پھر آپ خچر پر سوار ہو کر مسلمانوں کو مدد کے لئے بلاتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے اور آپ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ میں خدا کا نبی ہوں اور یہ سچی بات ہے لیکن میں وہی عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔یعنی میری غیر معمولی جرات دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ میں کوئی فوق البشر چیز ہوں۔ایک انسان ہوں اور اسی طرح جرات دکھا رہا ہوں۔اور آپ یہ دعا کرتے جاتے تھے کہ اللَّهُمَّ نَزِلْ نَصْرَكَ اے خدا! اپنی مدد نازل کر۔پھر حضرت براء نے کہا کہ حضور کی شجاعت کا حال سنو کہ جب جنگ جو بن پر ہوتی تھی تو اس وقت حضور سب سے آگے ہو کر سب سے زیادہ بہادری سے لڑ رہے ہوتے تھے۔اور ہم لوگ اس وقت حضور کو ہی اپنی ڈھال اور اپنی آڑ بنایا کرتے تھے اور ہم میں سے سب سے زیادہ وہی