خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 262

خطبات مسرور جلد سوم 262 خطبہ جمعہ 22 اپریل 2005ء نے ہی کرنا ہے۔کیونکہ مکہ میں ایک دفعہ اس نے آپ کو چیلنج دیا تھا کہ آپ ( نعوذ باللہ ) میرے ہاتھ سے مریں گے۔تو آپ نے فرمایا تھا کہ نہیں بلکہ تم میرے ہاتھ سے مرو گے۔وہ آدمی جو سواری پر بھی تھا، بظاہر ٹھیک بھی تھا، زخمی بھی نہیں تھا۔آپ زخموں سے لہولہان تھے اور سواری پر ہونے کی وجہ سے وہ بہتر طور پر آپ پر حملہ کر سکتا تھا۔اس کے باوجود آپ نے اپنی جرات اور شجاعت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے صحابہ کو کہا کہ نہیں تم پرے ہٹ جاؤ۔اس کا میں علاج کروں گا۔اور اسی نیزے کے زخم سے وہ بعد میں مکہ کے راستے میں واپس جاتے ہوئے فوت بھی ہو گیا تھا۔پھر جرات اور شجاعت کی ایک اور اعلیٰ مثال ہے۔غزوہ اُحد کے اگلے دن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ہمراہ مدینہ پہنچے تو آپ کو یہ اطلاع ملی کہ کفار مکہ دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ بعض قریش ایک دوسرے کو یہ طعنے دے رہے تھے کہ نہ تو تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کیا۔( نعوذ باللہ )۔اور نہ مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا اور نہ ان کے مال و متاع پر قبضہ کیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب کا فیصلہ کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کا تعاقب کریں گے اور اس تعاقب کے لئے میرے ساتھ صرف وہ صحابہ شامل ہوں گے جو گزشتہ روز غزوہ اُحد میں شامل ہوئے تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد - ذكر عدد مغازى رسول الله - غزوة رسول الله ﷺ حمراء الأسد) ایسی حالت میں جب آپ خود بھی زخمی تھے اور صحابہ کی اکثریت بھی زخمی تھی بلکہ شاید تمام کے تمام زخمی تھے۔آپ نے اپنے سے بڑے دشمن کے تعاقب کا فیصلہ کیا۔اور صحابہ میں بھی یہ روح پھونکی کہ شجاعت دکھاؤ گے تو کامیابیاں حاصل کرو گے۔آپ کا یہ جراتمندانہ فیصلہ ایسا تھا کہ جس نے دشمن کو پریشان کر دیا اور وہ جو دوبارہ حملے کی سوچ رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ ہمارا تعاقب کیا جارہا ہے تو وہیں سے واپس ملکہ کی طرف مڑ گیا۔یہ جنگی لحاظ سے جہاں اہم فیصلہ تھا وہاں آپ کی جرات وشجاعت کا بھی اظہار کرتا ہے۔