خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 253 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 253

خطبات مسرور جلد سوم 253 خطبہ جمعہ 22 /اپریل 2005ء انسانیت سے گری ہوئی گندی زبان استعمال کر رہے ہو یا درکھو کہ تم لوگوں کی ہلاکت میرے ہاتھوں سے ہونی ہے۔اب جس کو ذرا سا بھی دنیا کا خوف ہو، وہ ایسی بات نہیں کر سکتا۔وہ تو مصلحت کے تقاضوں کی وجہ سے خاموش ہو جائے گا کہ کہیں مجھ سے اور زیادتی نہ کریں۔لیکن خدا کا یہ شیر سب کوللکارتا ہے بغیر کسی کی پرواہ کے، بغیر کسی خوف کے، بغیر کسی ڈر کے، اور اس للکار میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رعب ہی ایسا دیا گیا ہے کہ باوجود مضبوط گروہ ہونے کے وہ سب اس بات پر خاموش ہو گئے جیسے جسم سے جان ہی نکل گئی ہو۔اور پھر اس شرارت کرنے والے نے بڑی عاجزی دکھائی۔بہر حال ان کی فطرت میں کیونکہ شرارت تو تھی ، ان لوگوں کی فطرت میں گند تھا ، اگلے دن پھر وہ لوگ اکٹھے ہوئے اور اسی طرح اکٹھے بیٹھے لیکن اب دُور سے آوازے نہیں کسے۔کیونکہ ایک دن پہلے جو واقعہ ہوا تھا کہ آپ کے کہنے پر سب سکتے میں آگئے تھے، اس وقت اور بھی وہاں لوگ ہوں گے کسی نے کہا ہو گا کہ اس طرح تو ہماری عزت جاتی رہے گی، ہماری عزت خاک میں مل جائے گی اور آپ جس مقصد کو لے کے اٹھے ہیں اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔تو اگلے روز ان سب نے دُور سے چر کے لگانے کی بجائے آپ کو گھیر لیا۔اب کوئی راہ فرار نہیں ہے۔سارے لوگ ارد گر دا کٹھے ہیں۔پھر پوچھا جا رہا ہے کہ کیا تم ہمارے بتوں کو برا کہتے ہو اور اُن کی برائیاں بیان کرتے ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حالت میں بھی فرماتے ہیں، جبکہ ہر طرف سے گھرے ہوئے ہیں، کہ ہاں میں صحیح کہتا ہوں۔کیونکہ یہ جو تمہارے بہت ہیں ان بیچاروں میں تو کوئی طاقت ہی نہیں ہے۔یہ تو خود تمہارے ہاتھوں سے بنے ہوئے ہیں۔تو دیکھیں آپ نے یہ جواب کسی جرات سے دیا اور اس بات کی کوئی بھی پرواہ نہیں کی کہ یہ لوگ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔اور اگلے ہی لمحے اس بات پر انہوں نے آپ پر زیادتی بھی کی۔چنانچہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے حضور کی چادر مبارک پکڑ لی اور ابو بکر بھی وہاں موجود تھے۔وہ یہ حالت دیکھ کر روتے ہوئے کھڑے ہوئے اور قریش سے کہنے لگے کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔تب قریش نے آپ کو