خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 243

خطبات مسرور جلد سوم 243 تو اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ دونوں جہان کی بھلائیاں مانگنی چاہئیں۔خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005ء جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ جہاں جسمانی بیماری کو دیکھ کر آپ بے چین ہو جاتے تھے تسلی دیتے تھے، دعا کرتے تھے وہاں روحانی مریضوں کے لئے بھی بے چینی ہوتی تھی۔اور جن سے کوئی تعلق ہوتا تھا ان کے لئے تو خاص طور پر آپ کے بڑے درد بھرے جذبات ہوا کرتے تھے۔کوشش ہوتی تھی کہ وہ بھی کسی طرح پاک دل ہو جائیں اور جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو اس کی رحمت کی نظر اُن پر پڑے۔ایک حدیث میں ایک واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا وہ بیمار ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔اس کے سرہانے بیٹھ کر حال احوال پوچھا اور اسلام قبول کرنے کی بھی تحریک فرمائی۔لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو پاس ہی بیٹھا تھا۔اس کے باپ نے کہا ابو القاسم کی بات مان لو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ لقب تھا) تو چنا نچہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔حضور خوش خوش وہاں سے یہ کہتے ہوئے واپس آئے کہ سب تعریفیں اس جل شانہ کے لئے ہیں جس نے اس نوجوان کو دوزخ کی آگ سے بچالیا۔(بخاری - کتاب الجنائز - باب اذا اسلم الصبى فمات، هل يصلّى عليه ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ مریض کے پاس عیادت کرنے کے سلسلے میں شور وغل نہ کرو اور نہ مریض کے پاس زیادہ بیٹھو کیونکہ مریض کے پاس کم بیٹھنا سنت ہے۔(مشكوة المصابيح كتاب الجنائز، الباب الأوّل ، الفصل الثالث حديث نمبر (1589) تو مریض کے کمرے میں شور شرابہ کرنا، بڑی دیر تک جمگھٹا لگا کر بیٹھ رہنا ، یہ آپ علی کے عمل کے خلاف تھا۔مریض کی عیادت کرنے کے بعد واپس آ جانا چاہئے۔اور گھر کے جو افراد تیمارداری کر رہے ہیں انہیں کو وہاں رہنا چاہئے۔یا اگر ہسپتال میں ہیں تو ہسپتال کے انتظام کے تحت۔بعض دفعہ عزیز رشتہ دار ہسپتالوں میں بھی اتنارش کر دیتے ہیں کہ ساتھ کے دوسرے مریض