خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 242

خطبات مسرور جلد سوم 242 خطبہ جمعہ 15 اپریل 2005ء ہوئے گندم کے آٹے کی روٹی کھانا پسند کرتے ہو؟ ( میٹھی روٹی بڑی مزیدار ہوتی ہے ) تو اس مریض نے کہا کہ ہاں! چنانچہ انہوں نے اس مریض کی مطلوبہ روٹی مہیا کرنے کا ارشاد فرمایا۔(سنن ابن ماجه - كتاب الجنائز - باب ما جاء في عيادة المريض) بعض ڈاکٹر مریضوں کو بعض چیزیں کھانے سے منع کرتے ہیں۔لیکن آپ مریض کی خواہش پوری کرنے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے۔مریض کی خوراک تو ویسے بھی بیماری میں بہت مختصر سی ہو جاتی ہے، تھوڑی سی رہ جاتی ہے۔ایک مریض کتنا کھا سکتا ہے جس سے نقصان ہو۔تو جب ڈاکٹر پابندیاں لگاتے ہیں تو اس کو مزید کمزور کر دیتے ہیں۔لیکن اب ڈاکٹر ز بھی اس طرف آ رہے ہیں بلکہ اب تو اکثر یہ کہتے ہیں کہ خوراک کھانے کی جو مریض کی خواہش ہو تو وہ اس کو دے دینا چاہئے ، کھانا چاہئے۔لیکن ہمارے ہاں جو حکیم ہیں وہ اس بارے میں بڑے پکتے ہیں اور ان کی کوئی بھی دوائی کھا ئیں تو ایک فہرست مہیا کر دیں گے کہ یہ یہ چیزیں نہیں کھانی۔وہ چیز نہ کھا کر اتنی احتیاطیں کر کے تو ویسے بھی یا تو مریض نہیں رہے گا یا مرض نہیں رہے گا۔پھر مریضوں کو بھی شفا پانے کے لئے دعاؤں کے سلیقے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے۔چنانچہ حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی عیادت فرمائی جو بیماری کے باعث کمزور ہوتے ہوئے چوزے کی طرح ہو گیا تھا۔بہت مختصر سا ہو گیا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مخاطب کر کے فرمایا۔کیا تم کوئی خاص دعا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا: ہاں۔پھر اس نے بتایا کہ میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا ہے وہ مجھے اس دنیا میں دے دے۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سُبْحَانَ اللہ۔تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔تم یہ دعا کیوں نہیں کرتے کہ اَللَّهُمَّ تِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کہ اے اللہ ! تو ہمیں اس دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔تو راوی کہتے ہیں کہ جب اس مریض نے یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی۔(مسلم) كتاب الذكر والدعاء باب كراهة الدعاء بتعجيل العقوبة في الدنيا ) |