خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 205 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 205

خطبات مسرور جلد سوم 205 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء تشریف لائیں گے تو ہم اپنی جانوں کی طرح حضور کی حفاظت کریں گے۔اس موقعہ پر ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مدینہ کے یہود کے ساتھ ہمارے پرانے تعلقات ہیں آپ کا ساتھ دینے سے وہ منقطع ہو جائیں گے، کٹ جائیں گے، ختم ہو جائیں گے۔ایسا نہ ہو کہ جب اللہ آپ کو غلبہ دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر مکہ واپس آجائیں۔تو حضور نے فرمایا: نہیں نہیں۔ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔تمہارا خون میرا خون ہوگا۔تمہارے دوست میرے دوست اور تمہارے دشمن میرے دشمن۔(السيرة النبوية لابن هشام، امرا لعقبة الثانية ، عهد الرسول عليه السلام على الانصار) آپ میں تو شکر گزاری اور احسان مندی انتہا کی تھی۔یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ مہاجرین پر انصار کے احسانوں کو یاد نہ رکھتے۔چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ آپ نے نہ صرف اس کو یاد رکھا بلکہ خوب خوب نبھایا۔اپنے آپ کو انصار ہی کا ایک حصہ قرار دیا۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ جنگ حنین کے بعد مال غنیمت کی تقسیم پر جب ایک انصاری نے اعتراض کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دردناک خطاب کیا۔فرمایا کہ اگر تم یہ کہو کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تو اس حال میں آیا کہ تو جھٹلایا گیا تھا اور ہم نے اس وقت تیری تصدیق کی۔اور تجھے جب اپنوں نے دھتکار دیا تو ہم نے اس وقت تجھے قبول کیا اور پناہ دی تھی۔تو ہمارے پاس اس حال میں آیا کہ مالی لحاظ سے بہت کمزور تھا اور ہم نے تجھے غنی کر دیا۔اگر تم یہ کہو تو میں تمہاری ان باتوں کی تصدیق کروں گا۔اے انصار ! اگر لوگ مختلف گھاٹیوں یا وادیوں میں سفر کر رہے ہوں تو میں اس وادی اور گھاٹی میں چلوں گا جس میں تم انصار چلو گے۔اگر میرے لئے ہجرت مقدر نہ ہوتی تو میں تم میں سے کہلانا پسند کرتا تم تو میرے ایسے قریب ہو جیسے میر کپڑے جو میرے بدن کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں اور باقی لوگ میری اوپر کی چادر کی طرح ہیں۔(بخاری کتاب المغازى باب غزوة الطائف۔ے وہ پس یہ شکر گزاری کے جذبات ہی تھے جن کی وجہ سے آپ نے انصار کو اپنے قریب ترین ہونے کا اعزاز بخشا۔پھر تاریخ میں ہمیں آپ کی احسان مندی اور شکر گزاری کی ایک اور اعلیٰ مثال یوں ملتی