خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 14

خطبات مسرور جلد سوم 14 خطبہ جمعہ 17 جنوری 2005ء قیام گورداسپور میں ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک دفعہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے حضرت احمد سے ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ) عرض کی کہ حضور لنگری کہتا ہے کہ لنگر کا خرچ ختم ہو گیا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ بعض مخلص احباب کو متوجہ کیا جاوے چند مخلص افراد کو امداد لنگر کے واسطے خطوط لکھے گئے اور کئی مخلصوں کے جواب اور رقوم آئیں۔کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک واقعہ خاکسار کو یاد ہے کہ وزیر آباد کے شیخ خاندان نے جو مخلص احمدی تھے ان کا ایک پسر نو جوان خط ملتے وقت طاعون سے فوت ہوا تھا۔اس خاندان کا نوجوان لڑکا اس طاعون سے فوت ہوا تھا اور اس کے کفن دفن کے واسطے مبلغ دو سو روپے بغرض اخراجات اس کے پاس موجود تھے۔اس نے اسی وقت ( اس لڑکے کے باپ نے ) ایک خط حضرت مسیح موعود کولکھا اور یہ خط ایک سبز کاغذ پر تحریر تھا اور اس کے عنوان میں یہ لکھا کہ اے خوشا مال کہ قربان مسیحا گردد کہ مبارک ہے وہ مال جو خدا کے مسیح کے لئے قربان کر دیا جائے۔نیچے خط میں لکھا میرا نو جوان لڑکا طاعون سے فوت ہوا ہے۔میں نے اس کی تجہیز و تکفین کے واسطے مبلغ دوسو روپے تجویز کئے تھے جو ارسال خدمت کرتا ہوں وہ دو سوروپے تھے جو اس کے لئے رکھے ہوئے تھے اور لڑکے کو اس کے لباس میں دفن کر دیتا ہوں۔یہ ہے وہ اخلاص جو حضرت مسیح موعود نے مریدں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے تھا جماعت کے لئے تھا، اللہ تعالیٰ کی مرضی چاہنے کے لئے تھا۔قاضی صاحب لکھتے ہیں کہ یہی لوگ تھے جن کو آیت وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعة : 4) کے ماتحت صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔(رساله ظہور احمد موعود مؤلفه قاضی محمد یوسف فاروقی احمدی۔قاضی خيل صفحه 700-71 مطبوعه 30 جنوری 1955) اتنی زیادہ قربانی کی کہیں اور مثال آپ کو نظر نہیں آئے گی۔اگر آئے گی تو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ہی نظر آئے گی۔اسی کا یہ خاصہ ہے۔حافظ معین الدین صاحب کی قربانی کا ذکر آتا ہے کہ ان کی طبیعت میں اس امر کا بڑا جوش تھا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے قربانی کریں۔خود اپنی حالت ان کی یہ تھی کہ نہایت عسر کے