خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 13
خطبات مسرور جلد سوم 13 خطبہ جمعہ 17 جنوری 2005ء فطوبى للغرباء۔میاں عبدالحق با وجود اپنے افلاس اور کمی مقدرت کے ایک عاشق صادق کی طرح محض اللہ خدمت کرتا رہتا ہے اور اس کی یہ خدمات اس آیت کا مصداق اس کو ٹھہرا رہی ہیں که يُؤْثِرُونَ عَلى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ حَصَاصَةٌ ( الحشر: 10) یعنی با وجود تنگی در پیش ہونے کے بھی اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحه 537) تو یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے ہیں جن کی ان چھوٹی چھوٹی قربانیوں سے، ان شبنم کے قطروں سے، درخت پھلوں سے لدے رہتے تھے۔ان کے اعمال کے درخت بھی پھلدار رہتے تھے۔اور جماعت بھی ان قربانیوں کی وجہ سے پھلوں سے لدی رہتی تھی۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری لکھتے ہیں کہ : جن مخلص احباب نے لنگر خانے کے واسطے فوراً امداد بھیجی ان میں ایک شخص چوہدری عبد العزیز صاحب احمدی او جلوی پٹواری بھی تھے۔(ان کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے )۔جو خود آپ گورداسپور آئے اور آریہ کے مکان میں جبکہ حضرت احمد اوپر سے نیچے اتر رہے تھے ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ہے ) زینہ میں نصف راہ میں ملے اور ہاتھ سے اپنی کمر سے ایک سو روپیہ چاندی کے کھول کر پیش کئے۔( یہ وہی واقعہ ہے، اس کی ذرا تفصیل ہے یا پہلے واقعہ کا جہاں حضرت مسیح موعود نے ذکر فرمایا ہے وہ ہو گا) کہ حضور کا خط آیا اور خاکسار کے پاس یہی رقم موجود تھی جو بطور امدادلنگر پیش کر رہا ہوں۔قاضی محمد یوسف صاحب لکھتے ہیں کہ ”مجھے ایک پٹواری کے جو ان دنوں صرف چھ روپے ماہوار تنخواہ لیتا تھا۔(ان کی صرف چھ روپے ماہوار تنخواہ تھی۔اور سوروپیہ چندہ دے رہے ہیں ) اس ایثار پر رشک آیا۔خدا تعالیٰ نے اس کے اخلاص کے عوض اس پر بڑے فضل کئے۔“ (رساله ظہور احمد موعود صفحه 72 مطبوعه 30/ جنوری 1955) تو یہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے نمونے جو پہلوں سے ملنے کے لئے اپنے پرتگی وارد کیا کرتے تھے اور تنگی واردکر کے قربانیاں دیا کرتے تھے۔پھر حضرت قاضی یوسف صاحب ایک اور ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ : میرے پہلے