خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 199
خطبات مسرور جلد سوم 199 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005 ء تشریف لاتے تو یہ دعا کرتے کہ " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى اَذْهَبَ عَنِى الْأَذَى وَعَافَانِي “ کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مضر چیز مجھ سے دور کر دی اور مجھے تندرستی عطا کی۔(ابن ماجه - كتاب الطهارة - باب ما يقول اذا خرج من الخلاء) ڈاکٹر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بہت سی بیماریاں جو ہیں معدے اور انتڑیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ان میں صحیح حرکت نہ ہونے کی وجہ سے۔اجابت نہ ہونے کی وجہ سے۔بعض اور تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔تو یہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ ہر چیز جو جسم کا حصہ ہے، ہر عضو جو ہے وہ صحیح کام کر رہا ہو اور جو اس کا فنکشن ہے وہ پورا کر رہا ہو۔اس پر بھی شکر کرنا چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ کی عبادتوں کے اعلیٰ معیار اس لئے قائم فرمائے کہ اس کا شکر گزار بندہ بنوں۔اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے، حضرت عائشہ یہ روایت کرتی ہیں کہ آپ علی رات کو اس قدر لمبا قیام فرماتے تھے کہ اس کی وجہ سے آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے۔کھڑے ہو کر جو نماز پڑھا کرتے تھے۔اس پر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کے سارے گناہ بخشے گئے ہیں۔پہلے بھی اور بعد کے بھی تو اب بھی اتنا لمبا قیام فرماتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کیا میں خدا کا عبد شکور نہ بنوں جس نے مجھ پر اتنا احسان کیا ہے۔کیا میں اس کا شکر یہ ادا کرنے کے لئے نہ کھڑا ہوا کروں۔(بخاري - كتاب التفسير - سورة الفتح - باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر) پھر ایک روایت میں عبادت کے تعلق میں شکر گزاری کا یہ واقعہ آتا ہے۔عطارضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں میں ، ابن عمرؓ اور عبید اللہ بن عمر کے ساتھ گئے اور ہم نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی عجیب ترین بات بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھی ہو۔اس پر حضرت عائشہ آپ کی یاد میں بیتاب ہو کر رو پڑیں اور کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہر ادا ہی نرالی تھی۔پھر فرمانے لگیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میرے پاس تشریف لائے اور لیٹے بستر پر۔پھر آپ نے فرمایا اے عائشہ! کیا آج کی رات تو مجھے اجازت دیتی ہے کہ اپنے رب کی عبادت کر