خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 198
خطبات مسرور جلد سوم 198 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء پھر جب نیا کپڑا پہنتے تو اسے پہن کر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے۔اس کے بد اثرات سے بچنے کی دعا مانگا کرتے تھے۔اس بارے میں حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جب کوئی نیا کپڑ پہنتے تو اس کا نام لے کر ( عمامہ میض یا چادر ) یہ دعامانگتے کہ " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيْهِ أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ " کہ اے اللہ ہر قسم کی تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں۔تو نے ہی مجھے پہنایا۔میں تجھ سے اس کے خیر اور جس غرض کیلئے بنایا گیا اس کی خیر مانگتا ہوں۔اور تجھ سے اس کے شر اور جس غرض کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔(ترمذى - كتاب اللباس باب ما يقول اذا لبس ثوبا جديدًا- حدیث نمبر 1767) اصل میں تو اس کے بہت سارے پہلو ہیں۔ایک تو بعض دفعہ بعض کپڑوں میں اس قسم کی چیز بھی ہوتی ہے، آجکل خاص طور پر ، جن سے بعض لوگوں کو الرجی بھی ہو جاتی ہے۔یہ بھی ایک شر کا پہلو نکل جاتا ہے۔پھر بعض لوگ بڑے اعلیٰ قسم کے سوٹ اور جوڑے سلواتے ہیں گو آپ میں وہ چیز تو نہیں آئی تھی لیکن اپنی امت کو سبق دینے کیلئے یہ دعاما نگتے تھے کہ اس کے شر سے بھی بچانا کسی قسم کے کپڑے سے کبھی کسی قسم کا تکبر پیدا نہ ہو۔پھر سوتے وقت اور نیند سے بیدار ہوتے ہوئے اللہ کی تعریف کے ساتھ یہ دعا کیا کرتے تھے۔اس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے۔حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آرام کے لئے جاتے تو یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ " اللهم بِاسْمِكَ اَمُوْتُ وَاحْيَا کہ میرا مرنا اور جینا تیرے نام کے ساتھ ہے۔اور جب صبح ہوتی تو یہ دعا مانگتے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُور کہ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد پھر زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(بخارى - كتاب التوحيد - باب السؤال باسماء الله تعالى والاستعاذ بها) زندگی کا کوئی پہلو نہیں تھا جس میں آپ اپنے پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھتے ہوئے اس کا شکر ادا نہ فرماتے ہوں۔حتیٰ کہ رفع حاجت کے لئے جاتے تھے، واپسی پر شکر کے جذبات ہوتے۔اس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ جب بیت الخلاء سے باہر