خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 105
خطبات مسرور جلد سوم 105 خطبہ جمعہ 18 فروری 2005ء حضرت ابو بکر نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ جائیں۔اس ارادے کو معلوم کر کے رسول کریم صلی اللہ یہ وسلم نے ابوبکر کی طرف اشارہ فرما کر کہا اپنی جگہ پہ کھڑے رہو۔پھر آپ کو وہاں لایا گیا۔پھر آپ ابو بکر کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنی شروع کی اور آپ کی جو حرکت ہوتی تھی اس پر حضرت ابو بکر تکبیر کہتے تھے۔الله اكبر بولتے تھے۔اور باقی لوگ حضرت ابو بکر کی نماز کی اتباع میں آپ کے پیچھے نماز پڑھتے رہے۔66 (بخاری ، کتاب الاذان ، باب حد المريض ان يشهد الجماعة) حضرت علی اور حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اور آخری پیغام جبکہ آپ جان کنی کے عالم میں تھے اور سانس اکھڑ رہا تھا۔یہ تھا کہ الصَّلواةُ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ “ نماز اور غلام کے حقوق کا خیال رکھنا۔(سنن ابن ماجه ، كتاب الوصايا ، باب هل أوصى رسول الله صلى الله عليه وسلم ) یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بہترین خلاصہ ہے۔کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے تجویز فرمایا ہزاروں ہزار درود سلام ہوں اس پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جس نے خود بھی عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کئے اور اپنی امت کو بھی اس کی نصیحت فرمائی۔اللهم صلّ على محمد وعلى آل محمد وبارك وسلم انك حميد مجيد حضرت عبداللہ بن رواحہ نے بجاطور پر آپ کی تعریف میں یہ شعر لکھا ہے کہ ؎ يَبِيتُ يُحَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِيْنَ الْمَضَاجِعُ کہ آپ اس وقت بستر سے الگ ہو کر رات گزار دیتے ہیں جب مشرکوں پر بستر کو چھوڑ نا نیند کی وجہ سے بوجھل ہوتا ہے۔(بخاری کتاب التهجد باب فضل من تعار من الليل فصلّی۔حدیث نمبر 1155) بہر حال ایسے لوگ جو یہ لغویات ، فضولیات اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔اس کے لئے گزشتہ ہفتے بھی میں نے کہا تھا کہ جماعتوں کو انتظام کرنا چاہئے۔مجھے خیال آیا کہ ذیلی تنظیموں