خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 910
910 $2004 خطبات مسرور اور بیوگان اور مساکین کے ساتھ چلنے میں اور ان کے کام کرنے میں عار محسوس نہ کرتے۔تو یہ جو چیزیں تھیں، جو باتیں تھیں، یہ نظر بھی آیا کرتی تھیں اور پھر انہیں عملی نمونوں کا اثر تھا کہ صحابہ بھی پھر ان پر چلنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔پھر ملازموں سے شفقت ہے۔خادموں سے شفقت ہے جو ایک اور مجبور طبقہ ہے۔اس بارے میں حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور دس سال تک مجھے حضور کی خدمت کا موقعہ ملا۔اور میں اس طرح کام نہیں کیا کرتا تھا جس طرح حضور کی خواہش ہوتی تھی اکثر یہ ہوتا تھا۔لیکن آپ نے کبھی مجھے آج تک کام کے بارے میں کچھ نہیں کہا، اُف تک نہیں کہی۔یا یہ کبھی نہیں کہا کہ تم نے یہ کیوں کیا ہے یا تم نے یہ کیوں نہیں کیا یا اس طرح کیوں نہیں کیا۔کبھی آپ نے کچھ نہیں کہا۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب في الحلم واخلاق النبي) حضرت انس ہی ایک اور روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ایک بار آپ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔میں نے کہا میں نہیں جاؤں گا۔لیکن میرے دل میں تھا کہ کرلوں گا کام، ابھی کر کے آتا ہوں کیونکہ حضور" کا حکم ہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ میں چل پڑا، بچہ تھا تو بازار میں بچوں کے پاس سے گزرا۔بچے کھیل رہے تھے میں کھڑا ہو گیا اور ان کو دیکھنے لگ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پیچھے سے میری گردن پکڑ لی ، گردن پر ہاتھ رکھا۔میں نے مڑ کر آپ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے۔فرمایا: آئیس ! ( مذاق میں کہا) جس کام کی طرف میں نے تجھے بھیجا تھا وہاں گئے ؟ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! ابھی جاتا ہوں۔انس کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے کو سال تک حضور کی خدمت کی ہے۔مجھے علم نہیں کہ آپ نے کبھی فرمایا ہو کہ تو نے یہ کام کیوں کیا ہے یا کوئی کام نہ کیا تو آپ نے فرمایا ہو کہ کیوں نہیں کیا۔صلى الله۔(مسلم کتاب الفضائل باب حسن۔خلقه علي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادموں اور ملازموں سے جوحسن سلوک کیا اس کا ذکر