خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 900 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 900

$2004 900 خطبات مسرور پرانے زمانے میں مذہبی اختلاف کے باوجود کچھ شرافت تھی، کچھ قدریں تھیں۔جماعت احمدیہ کی طرف سے اگر اسلام کے دفاع کے لئے ، آنحضرت ملنے کے لئے غیرت دکھانے کے لئے کوئی کام ہوا تو غیروں نے بھی اس کا برملا اظہار کیا۔جماعت کی خدمات کی توصیف و تعریف کی۔آجکل کے اخباروں کی طرح لوگوں کی طرح خوف زدہ ہو کر نہیں بیٹھ گئے کہ پتہ نہیں کیا مصیبت آ جائے گی ہم پر اگر ہم نے کچھ کہہ دیا۔یہ جرات پاکستان میں تو نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بنگلہ دیش میں ظاہر ہو رہی ہے۔ان کے عوام نے بھی دکھائی ہے۔ان کے سیاسی لیڈروں نے بھی دکھائی ہے ان کے اخباروں نے بھی دکھائی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے جو اس جرأت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اس وقت جو واقعہ میں بتا رہا ہوں یہ 1927ء میں ایک رسالہ ورتمان نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے متعلق بڑی بیہودہ گوئیاں کی تھیں۔فضول باتیں گندی غلیظ قسم کی۔تو اس وقت مسلمانوں میں جوش اور غیض غضب بھی تھا لیکن اس کو صحیح راستے پر چلانے والا کوئی نہیں تھا۔اس وقت تمام مسلمانوں کو توجہ دلانے اور مسلمان لیڈروں کو اکٹھا کر کے اس سلسلہ میں کوشش کرنے کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے انتھک محنت کی ، اور مشورے دیئے۔مسلمانوں کو بتایا کہ جلسہ سے یا تقریروں سے یا بائیکاٹوں سے یا جلوسوں سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تبلیغ کی طرف توجہ دینی چاہئے۔بہر حال یہ ایک لمبی تفصیل ہے۔آپ کی کوششوں سے بہت سے عملی اقدامات ہوئے۔عدالت میں پیش ہونے کے لئے عدالت میں یہ کیس بھی چلا اور پیش ہونے کے لئے چوٹی کے مسلمان وکلاء کی جو کمیٹی تھی انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو اگر کوئی احسن طریق پر اچھے رنگ میں عدالت میں پیش کر سکتا ہے تو وہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ہی ہیں۔چنانچہ وہ پیش ہوئے اور ان کی کوششوں کو بڑا سراہا گیا اخباروں میں بھی۔اور اخباروں نے اس کا اظہار بھی کیا۔تو اس ساری کوشش کا ذکر اس وقت 23 ستمبر 1927ء کی مشرق اخبار نے اس طرح لکھا کہ :