خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 899
$2004 899 مسرور اور وہ دوڑ گیا۔یعنی کوئی سر پیر نہیں ہوتا ان کی باتوں کا کہ خود جا کے کہا کہ مجھے مارو۔اتنے بے وقوف نہیں ہیں احمدی۔ایک تو محبت کا تقاضا ہے ایسی بات کہہ نہیں سکتے۔اگر دنیا داری کی نظر سے دیکھا جائے تو کوئی پاگل ہی ہو گا جو ایسی بات کہے گا۔تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا ہے حج صاحب نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اس بے چارے کو عمر قید کی سزا سنا دی اور دس ہزار روپے جرمانہ۔تو جیل میں ہے آج کل۔ایسے لوگوں سے انصاف کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ہم نے تو اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا ہے اسی سے مانگنا ہے وہ انشاء اللہ تعالیٰ ضرور ہماری مدد کو آئے گا اور جو ہمارے اسیران ہیں ان کو خود احساس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح جیل میں مددفرما رہا ہوتا ہے۔باوجود تنگی کے کبھی احساس نہیں ہو رہا ہوتا ایسے ایسے فضل ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تو مد دکو انشاء اللہ آنا ہے اور آئے گا۔جوں کو بھی جو فیصلے سنانے والے ہیں ان کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ ان کے اوپر ایک احکم الحاکمین ہے جو بغیر کسی جنبہ داری کے انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے۔تم لوگ کسی مظلوم کو سزا تو دے سکتے ہو۔لیکن ٹھیک ہے اس کے پاس اختیار نہیں ہے، کچھ نہیں کر سکتا لیکن اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بہر حال نہیں بچ سکتے۔اب بعض مولوی بڑی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑا حوصلہ دکھاتے ہوئے احمدیوں کو کہتے ہیں، بعض اخباروں میں بھی آ جاتا ہے، تقریریں بھی کرتے ہیں کہ اگر تم احمد بیت سے منحرف ہو جاؤ ، حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑ دو تو ہم تمہیں سب سے بڑا عاشق رسول سمجھیں گے اور اپنے سینے سے لگائیں گے۔ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ تمہیں کیا پتہ کہ عشق رسول کیا ہوتا ہے۔جس شخص کو تم چھوڑنے کے لئے کہہ رہے ہو اسی سے تو ہم نے عشق رسول کے اسلوب سیکھے ہیں۔عشق رسول کی پہچان تو ہمیں آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وجہ سے ملی ہے۔ان کو چھوڑ کر ہم تمہارے پاس آئیں جن کے پاس سوائے گالیوں کے اور غلیظ ذہنیتوں کے اور ہے ہی کچھ نہیں۔جماعت احمدیہ کی تاریخ ان باتوں سے بھری پڑی ہے کہ جب بھی عشق رسول کے اظہار اور غیرت دکھانے کا معاملہ آیا احمدی ہمیشہ صف اول میں رہا ، اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ رہے گا۔