خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 841
$2004 841 خطبات مسرور آپ نے فرمایا ” خدا نے دل ہی ایسا بنایا ہے تو بتلاؤ میں کیا کروں“۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ٥٩ البدر ٦ مارچ ۱۹۰۳ ) اور ایسا ہی دل آپ جماعت کے ہر فرد کا بنانا چاہتے تھے۔اور یہی آپ نے ہمیں تعلیم دی ہے۔جو اسلام کی صحیح تصویر ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ ” میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص عہد دوستی باند ھے مجھے اس عہد کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ شخص کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے میں اس سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ہاں اگر وہ خود قطع تعلق کر دے تو ہم لا چار ہیں۔ورنہ ہمارا مذ ہب تو یہ ہے کہ اگر ہمارے دوستوں میں سے کسی نے شراب پی ہو اور بازار میں گرا ہوا ہو تو ہم بلاخوف لومتہ لائم لوگوں کی ملامت کے بغیر کسی خوف کے بغیر اسے اٹھا کر لے آئیں گے“۔فرمایا عہد دوستی بڑا قیمتی جو ہر ہے اس کو آسانی سے ضائع نہیں کر دینا چاہئے اور دوستوں کی طرف سے کیسی ہی نا گوار بات پیش آئے اس پر اغماض اور حمل کا طریق اختیار کرنا چاہئے۔(چشم پوشی کرنی چاہئے ، درگزر کرنی چاہئے )۔(سيرة طيّبه صفحه (56 حضرت مولوی شیر علی صاحب نے یہ بھی آگے فرمایا انہوں نے اپنی روایت میں لکھا ہے کہ آگے یہ بھی آپ نے فرمایا تھا کہ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کریں گے اور جب وہ ہوش میں آنے لگے تو اس کے پاس سے اٹھ کر چلے جائیں گے تا کہ وہ ہمیں دیکھ کر شرمندہ نہ ہو۔اور آپ نے جماعت کو یہ نصیحت کی ہے کہ جماعت کے فرد بھی ایک خاندان کی طرح ہیں۔تمہارے بھائی ہیں، آپس میں بھائی بن کر رہو اور ایک دوسرے کے عیبوں کو چھپاؤ۔(سيرة طيبه صفحه (56 ایک بار حضرت مسیح موعود کی مجلس میں کسی کی کمزوریوں کا کسی نے ذکر کیا۔آپ نے سنا تو اس شخص کو مخاطب ہو کر فرمایا عیبش گفته ای ،ہنرش نیز بگو یعنی اس کے نقائص اور