خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 840 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 840

840 $2004 خطبات مسرور کرنی چاہئے اور اپنے لئے بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ستاری کا سلوک ہی کرتار ہے۔اور اس کے لئے آنحضرت ﷺ نے ہمیں دعا بھی سکھائی ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ”اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا طلبگار ہوں۔مولیٰ میں تجھ سے دین و دنیا، مال اور گھر بار میں عفو اور عافیت کا خواستگار ہوں۔اے اللہ ! میری کمزوریاں ڈھانپ دے اور مجھے میرے خوفوں سے امن دے۔اے اللہ ! آگے پیچھے، دائیں بائیں اور اوپر سے خود میری حفاظت فرما۔اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں نیچے سے کسی مخفی مصیبت کا شکار ہوں“۔(ابو داود كتاب الادب باب ما يقول اذا اصبح۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس سلسلے میں کیا مثال تھی اور کیا دل کا حال تھا وہ میں پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : " قتل کے مقدمہ میں ہمارے ایک مخالف گواہ کی وقعت کو عدالت میں کم کرنے کی نیت سے جو اس کا زور تھا اس کو توڑنے کی نیت سے ”ہمارے وکیل نے چاہا کہ اس کی ماں کا نام دریافت کرے مگر میں نے اسے روکا اور کہا کہ ایسا سوال نہ کرو جس کا جواب وہ مطلق دے ہی نہ سکے اور ایسا داغ ہر گز نہ لگاؤ جس سے اسے مفر نہ ہو۔حالانکہ ان ہی لوگوں نے مجھ پر جھوٹے الزام لگائے۔جھوٹا مقدمہ بنایا۔افتراء باند ھے اور قتل اور قید میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔میری عزت پر کیا کیا حملے کر چکے ہوئے تھے۔اب بتلاؤ کہ میرے پر کون سا خوف ایسا طاری تھا کہ میں نے اپنے وکیل کو ایسا سوال کرنے سے روک دیا۔صرف بات یہ تھی کہ میں اس بات پر قائم ہوں کہ کسی پر ایسا حملہ نہ ہو کہ واقعی طور پر اس کے دل کو صدمہ دے اور اسے کوئی راہ مفر کی نہ ہو۔یعنی کوئی اور اس کے لئے بچنے کا رستہ نہ ہو۔جب یہ آپ نے فرمایا تو وہاں بیٹھے ہوئے کسی شخص نے عرض کیا کہ حضور! میرا دل تو اب بھی خفا ہوتا ہے“۔یعنی مجھے اچھا نہیں لگا کہ یہ سوال کیوں نہیں کیا۔یہ سوال اس کو نیچا کرنے کے لئے ہونا چاہئے تھا۔تو آپ نے فرمایا کہ ” میرے دل نے گوارا نہ کیا۔اس نے لگتا ہے بہت ہی زیادہ غصے میں تھا پھر کہا کہ یہ سوال ضرور ہونا چاہئے تھا۔تو