خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 801 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 801

$2004 801 مسرور ایک روایت میں آتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے ایک کھجور بھی پاک کمائی میں سے اللہ کی راہ میں دی اور اللہ پاک چیز کو ہی قبول فرماتا ہے تو اللہ اس کھجور کو دائیں ہاتھ سے قبول فرمائے گا اور اسے بڑھاتا جائے گا۔یہاں تک کہ وہ پہاڑ جتنی ہو جائے گی۔جیسے تم میں کوئی اپنے چھوٹے سے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے اور بڑا جانور بنادیتا ہے۔(بخاری كتاب الزكواة - باب لا يقبل الله صدقة من غلول) تو یہ ہے اللہ کے رسول کا وعدہ اور یہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق ہے کہ میں بڑھاتا ہوں اور اتنا بڑھاتا ہوں کہ سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہوں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔پس اس بات پر خوفزدہ نہ ہوں کہ اتنے لمبے عرصے کے کھاتے کس طرح زندہ کئے جائیں۔جتنا زیادہ سے زیادہ پیچھے جا کر اپنی توفیق کے مطابق کھاتے زندہ کر سکتے ہیں، وہ کریں اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو بھی دیکھیں۔اور پھر جوں جوں اللہ تعالیٰ فضل بڑھاتا چلا جائے گا آپ کی توفیق بھی بڑھتی جائے گی۔پھر یہ بھی خواہش ہوگی کہ میں وہ تسلسل قائم رکھوں اور کوئی بیچ میں سال ایسا نہ ہو کہ خالی گیا ہو۔اگر ایسے لوگ کچھ دیتے ہیں تو دفتر بھی یہ خیال رکھے صرف تسلسل کے پیچھے نہ پڑھائیں، قواعد کی زیادہ پیچید گیوں میں، اگر کوئی کھاتے زندہ کرنا چاہتا ہے تو کھاتے زندہ کر دیں۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر صبح دوفرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ ! خرچ کرنے والے سخی کو اور دے۔اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر۔دوسرا کہتا ہے اے اللہ ! روک رکھنے والے کنجوس کو ہلا کت دے اور اس کا مال و متاع بر باد کر۔(بخاری کتاب الزكواة باب قول الله فاما۔من اعطى واتقى۔۔۔۔۔۔) تو یہ ایک اور ترغیب ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اپنے والدین کی قربانیوں کی طرف توجہ نہیں کی۔اپنے لئے بھی اور اپنے والدین کی قربانیوں کی طرف بھی توجہ کر یں۔پس جلدی سے