خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 781
$2004 781 خطبات مسرور المومنین بھی یقینا نیکی کی وجہ سے ہی اعتکاف بیٹھی ہوں گی کہ آنحضرت ﷺ کے قرب میں ان۔برکات سے ہم بھی حصہ لے لیں جو ان دنوں میں ہونی ہیں۔لیکن آپ ﷺ کو یہ برداشت نہ تھا کہ کسی نیکی سے دکھاوے کا ذرا سا بھی اظہار ہوتا ہو۔ذرا سا بھی شبہ ہوتا ہو۔چنانچہ آپ نے سب کے خیمے اکھڑ وادیئے۔پھر آپ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ اعتکاف کس طرح بیٹھنا چاہئے ، بیٹھنے والوں اور دوسروں کے لئے کیا کیا پابندیاں ہیں روایت میں آتا ہے کہ ”آپ نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا ، آپ کے لئے کھجور کی خشک شاخوں کا حجرہ بنایا گیا، ایک دن آپ نے باہر جھانکتے ہوئے فرمایا، نمازی اپنے رب سے راز و نیاز میں مگن ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو سنانے کے لئے قراءت بالجبر نہ کرو۔“ (مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 67- مطبوعه بيروت۔یعنی مسجد میں اور بھی لوگ اعتکاف بیٹھے ہوں گے اس لئے فرمایا معتکف اپنے اللہ سے رازو نیا ز کر رہا ہوتا ہے، دعائیں کر رہا ہوتا ہے۔قرآن شریف بھی اگر تم نماز میں پڑھ رہے ہو یا ویسے تلاوت کر رہے ہو تو اونچی آواز میں نہ کرو تا کہ دوسرے ڈسٹرب نہ ہوں۔ہلکی آواز میں تلاوت کرنی چاہئے۔سوائے اس کے کہ اب مثلاً جماعتی نظام کے تحت بعض مساجد میں خاص وقت کے لئے درسوں کا انتظام ہوتا ہے۔وہ ایک جماعتی نظام کے تحت ہے اس کے علاوہ ہر ایک معتکف کو نہیں چاہئے کہ اونچی آواز میں تلاوت بھی کرے یا نماز ہی پڑھے۔کیونکہ اس طرح دوسرے ڈسٹرب ہوتے ہیں۔تو یہ ہیں احتیاطیں جو آنحضرت ﷺ نے فرما ئیں۔کہاں یہ احتیاطیں اور کہاں اب یہ حال ہے کہ بعض دفعہ پہلے ربوہ میں بھی ہوتا تھا لیکن دوسرے شہروں میں ابھی بھی باہر ہوتا ہے۔شاید یہاں بھی یہی صورت حال ہو۔معتکف کے لئے بڑی تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے۔کہ وہ اپنی عبادت میں مصروف ہوتا ہے پردہ کے لئے ایک چادر ہی ٹانگی ہوتی ہے نا۔پردہ کے پیچھے سے ایک