خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 774 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 774

$2004 774 خطبات مسرور وہاں ، جو وعدے ملے وہ سب سے پہلے خواتین کے وعدے ہی تھے اور عورتیں اپنے زیور بھی آکر انفرادی طور پر پیش کر رہی ہیں۔لیکن بحیثیت تنظیم، لجنہ کی طرف سے ابھی تک کوئی وعدہ نہیں آیا اس لئے وہ بھی آگے بڑھیں ، چھلانگ لگا ئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ کبھی بھی مالی قربانیوں میں پیچھے نہیں رہی۔اور مجھے امید ہے کہ اب بھی نہیں رہے گی۔لگتا یہ ہے کہ زیادہ تفصیلی رپورٹ بنانے کی کوشش میں پڑی ہوئی ہیں۔ابتدائی اطلاع کم از کم ان کو کرنی چاہئے تھی جو انہوں نے ابھی تک نہیں کی۔میں نے پچھلی دفعہ بھی بتایا تھا کہ مسجد فضل بھی ہندوستان کی غریب خواتین کے چندے سے ہی بنی تھی تو اب تو آپ بہت بہتر پوزیشن میں ہیں۔میرا تو خیال یہ ہے کہ یہاں یو۔کے۔کی لجنہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پوزیشن میں ہے کہ وہ کسی بھی ایک اچھی مسجد کا خرچ خود بھی برداشت کر سکتی ہے۔اللہ ان کو توفیق دے۔لیکن یہ جو اتنی ساری رقمیں آ رہی ہیں۔اس کو سن کر خاص طور پر میں بریڈ فورڈ والوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اب یہ نہ سمجھ لیں کہ ہمیں کافی مددمل گئی ہے اس لئے ریلیکس (Relax) ہو جائیں اور خود جو جماعت، ریجن یا شہر نے اپنی جو کوشش کرنی تھی جو انہوں نے اصول مقرر کیا تھا اس کے مطابق وہ کوشش بہر حال جاری رہنی چاہئے۔اگر زائد رقم ہو بھی جاتی ہے تو آئندہ انشاء اللہ کسی اور مسجد کے کام آجائے گی۔مسجد میں تو اب انشا اللہ تعالیٰ بنانی ہیں۔ایک دفعہ مسجدیں بنانے کا کام شروع کیا ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ جاری رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہر شہر میں یہاں ہم مسجد بنا دیں۔اور ایک اچھی مسجد بنادیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ یہ اظہار فرمایا تھا کہ اگر یورپ میں ہماری اڑھائی ہزار مسجدیں ہوں تو ہماری ترقی کی رفتار کئی گنا ہو سکتی ہے۔تو اللہ کرے کہ جماعت کو جلد ایسی توفیق ملے کہ ہم اس تعداد میں مسجد میں یہاں بنائیں۔رمضان میں ان سب لوگوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں جنہوں نے مساجد کے لئے قربانیاں کیں اور کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی تو فیقوں کو بڑھاتا چلا جائے۔