خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 767
$2004 767 خطبات مسرور ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں اس کو بخش دوں۔(ترمذى كتاب الدعوات باب ما جاء في عقد التسبيح بالله ) سیہ رمضان کے ساتھ کوئی شرط نہیں ہے یہاں تو رمضان کے علاوہ بات ہو رہی ہے کہ جب بھی کوئی بندہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو بخشتا بھی ہوں، میں اس کو دیتا بھی ہوں، اس کی باتوں کا جواب بھی دیتا ہوں۔تو یہ رمضان تو اللہ تعالیٰ نے ایک موقع دیا ہے عبادتوں کی عادت ڈالنے کا۔اس لئے اب ہر احمدی کو یہ عادت مستقل ڈالنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر ہمیشہ ہم پر پڑتی رہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالی تکالیف کے وقت اس کی دعاؤں کو قبول کرے تو اسے چاہئے کہ فراخی اور آرام کے وقت بکثرت دعا کرے۔(ترمذی کتاب الدعوات باب دعوة المسلم مستجابة ) پس یہ جومیں نے کہا کہ مستقل مزاجی سے عام حالات میں بھی توجہ پیدا ہونی چاہئے یہ حدیث بھی ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ صرف تکلیف اور ضرورت کے وقت ہی اللہ تعالیٰ کو نہیں پکارنا بلکہ مستقل اس کے آگے جھکے رہنا ہے۔اس کو پکارتے رہو۔اس کے احکامات پر عمل کرتے رہو تو اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتا تمہاری اس حالت میں تمہیں دیکھ کے تمہاری تکلیف دور کرنے کے لئے تمہاری طرف دوڑتا ہوا آئے گا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بندے کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہوں۔جس وقت بندہ مجھے یاد کرتا ہے میں اس وقت اس کے ساتھ ہوں۔اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں اس کو اپنے دل میں یاد کروں گا۔اگر وہ میرا ذکر محفل میں کرے گا تو میں اس بندے کا ذکر اس سے بہتر محفل میں کروں گا۔اگر وہ میری جانب ا یک بالشت بھر آئے گا تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ جاؤں گا۔اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ آئے گا