خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 766 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 766

$2004 766 خطبات مسرور زیادہ اس سے عافیت مطلوب کرنا محبوب ہے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دعا اس ابتلا کے مقابلے پر جو آپکا ہے اور اس کے مقابلہ پر بھی جو ابھی نہ آیا ہو، نفع دیتی ہے۔اے اللہ کے بندو! تم پر لازم ہے کہ تم دعا کرنے کو اختیار کرو۔(ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء في عقد التسبيح بالله۔فرمایا کہ سب سے محبوب عافیت ہے۔یعنی نیکی، پارسائی، بری باتوں سے رکنا۔یہی چیزیں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہیں۔اور دعاؤں میں جب ان نیکی کی راہوں کو اللہ تعالیٰ سے مانگو گے تو گزشتہ ابتلاؤں سے بھی حفاظت میں آنے کے سامان کرو گے اور آئندہ کے ابتلاؤں سے بھی بچتے رہو گے۔پس یہ دعائیں کرنا بھی ایک مستقل عمل ہے جس سے رحمت کے دروازے کھلتے رہیں گے۔اور ہم گزشتہ اور آئندہ آنے والی ابتلاؤں سے بھی محفوظ رہیں گے۔رحمت اور فضل کے دروازوں کا مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آنے والوں سے بھی تعلق ہے۔اس لئے مسجد میں آنے اور جانے کی دعا سکھائی گئی ہے جس میں فضل اور رحمت کے دروازے کھولنے کے لئے دعا مانگی گئی ہے تاکہ مسجدوں کے اندر بھی اور باہر بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں، رحمتوں اور برکتوں کا سایہ رہے۔اور ہمارا کوئی فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے خلاف نہ ہو۔اپنے دنیاوی دھندوں میں بھی یا دنیاوی کاروبار بھی کوئی آدمی کر رہا ہو گا تو خدا تعالیٰ اس کے عافیت طلب کرنے کی وجہ سے اس پر رحمت برسا رہا ہوگا۔اس کی نمازوں کی وجہ سے اس کی دعاؤں کی وجہ سے ، اس پر رحمت برسا رہا ہوگا۔اور یہ رحمت کے دروازے ہر وقت کھلے رہیں گے کیونکہ وہ دنیاوی کاموں میں بھی نیکی کو رائج کرنے والا ہوگا، نیک باتوں کو پھیلانے والا ہوگا اور اس کے لئے کوشش کر رہا ہوگا۔تو یہی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کا باعث بنتی ہیں۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات قریبی آسمان تک نزول فرماتا ہے۔جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کو جواب دوں ؟۔کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو دوں؟ ،کون