خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 752
خطبات مسرور 752 $2004 تو اس سے پہلی حدیث کی بھی مزید وضاحت ہو گئی کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام تر ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں جن سے ایک انسان اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بھی بن سکے پھر بھی اگر وہ عبد نہیں بنتا، رمضان سے فیض نہیں اٹھاتا، اس کی عبادت کرنے والا ، اس کے احکامات پر عمل کرنے والا ، نیکیوں کو پھیلانے والا نہیں بنتا، تو فرمایا کہ پھر اس پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔بلکہ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ اس پر ہلاکت ہے کہ ان تمام سامانوں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باوجود بھی اپنے آپ کو نہ بخشوا سکا۔پس اس بخشش کے حصول کے لئے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معیار قائم کرنے ہوں گے، ان کو ادا کرنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں اور اپنا محاسبہ نفس کرتے ہوئے رکھے۔اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ رمضان کی کیا کیا فضیلتیں ہیں تو تم ضرور اس 66 بات کے خواہشمند ہوتے کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔“ (الجامع الصحيح مسند الامام الربيع بن حبيب، كتاب الصوم باب في فضل رمضان ) جو پہلی حدیث میں فرمایا تھا کہ ہزاروں اور لاکھوں کو بخش دے گا اس کی یہاں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ روزے ایمان کی حالت میں اگر ہوں گے۔روزے بھی رکھ رہے ہو گے اور ایمان کی حالت میں رکھ رہے ہو گے، جور رکھنے کا حق ہے وہ ادا کر رہے ہو گے، اپنے نفس کا محاسبہ بھی کر رہے ہو گے، اپنے آپ کو بھی دیکھ رہے ہو گے، یہ نہیں کہ صرف دوسروں کی برائیوں پر نظر ہو بلکہ اپنا بھی جائزہ لے رہے ہو گے، اللہ تعالیٰ کے خاص بندے بننے والے ہو گے تو پھر برکتوں سے فیض پانے والے ہو گے۔نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے کہا کہ آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے اپنے والد سے سنی ہو اور انہوں نے ماہ رمضان کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ