خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 734
خطبات مسرور 734 آپ کو اس تعلیم کا عامل نہ بناؤ گے تو گویا آنے والی نسلوں کو تباہ کرو گئے۔$2004 پھر دعوت الی اللہ تو ہے ہی جو ہمارا کام ہے اگر اپنے نمونے نیک نہیں ہوں گے تو اپنی نسلوں کو بگاڑنے والے ہوں گے۔کیونکہ وہ بھی آپ کا نمونہ دیکھ رہی ہوں گی۔”انسان کی فطرت میں نمونہ پرستی ہے۔وہ نمونہ سے بہت جلد سبق لیتا ہے۔ایک شرابی اگر کہے کہ شراب نہ پیو، یا ایک زانی کہے کہ زنانہ کرو، ایک چور دوسرے کو کہے کہ چوری نہ کرو تو ان کی نصیحتوں سے دوسرے کیا فائدہ اٹھائیں گے۔بلکہ وہ تو کہیں گے کہ بڑا ہی خبیث ہے۔وہ جو خود کرتا ہے اور دوسروں کو اس سے منع کرتا ہے۔جو لوگ خود ایک بدی میں مبتلا ہو کر اس کا وعظ کرتے ہیں وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔دوسروں کو نصیحت کرنے والے اور خود عمل نہ کرنے والے بے ایمان ہوتے ہیں اور اپنے واقعات کو چھوڑ جاتے ہیں۔ایسے واعظوں سے دنیا کو بہت بڑا نقصان پہنچتا ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحه 518 الحكم (31 جنوری 1904 | خدا کرے کہ ہم دعوت الی اللہ کی طرف توجہ دینے والے بھی ہوں اور عمل صالح کرنے والے بھی ہوں۔تبھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں احمدیت میں شمولیت کی صورت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کرنے کی وجہ سے جو انعام دیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور شکر گزار بندے بنتے ہیں اور شکر گزار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔اور جب یہ شکر گزاری قائم رہے گی اور عمل بھی قائم رہیں گے ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے تو تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے کامل فرمانبرداروں میں شمار ہوں گے۔پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ گزشتہ کوتاہیوں پر خدا تعالیٰ سے معافی مانگیں اور مغفرت طلب کریں اور آئندہ ایک جوش اور ایک ولولے اور جذبے کے ساتھ احمدیت کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے آگے بڑھیں۔ابھی دنیا کے بلکہ اس صوبہ کے سکاٹ لینڈ کے بہت سے