خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 733 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 733

$2004 733 خطبات مسرور سکتے تو کم از کم اپنے اعمال اتنے درست ہوں کہ دوسرے داعیان الی اللہ کی مدد ہو سکے۔کبھی کوئی انگلی آپ پر یہ کہتے ہوئے نہ اٹھے کہ پہلے اپنوں کو تو سنبھالو، پہلے اپنے لوگوں کی حالت تو درست کرو۔اس لئے ہر احمدی اپنی اصلاح کی طرف ہمیشہ کوشش کرے، توجہ دیتا رہے۔اپنے آپ کو اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت سے منسوب رکھنا ہے تو اپنی اصلاح بھی ہمیں کرنی ہوگی تاکہ کوئی بھی شخص جماعت کا، اسلام کا پیغام پہنچانے میں روک نہ بنے۔بہر حال دعوت الی اللہ کے لئے عمل صالح بھی بہت ضروری ہے اور جب اپنے عمل نیک ہوں گے تو آپ دوسروں کو کہنے میں بھی حق بجانب ہوں گے۔ورنہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کہتے کچھ ہو اور کرتے کچھ ہو۔اس طرح تو تم گناہ گار بن رہے ہو۔ثواب لینا تو علیحدہ رہا، گناہ میں حصہ لے رہے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اسلام کی حفاظت اور سچائی کے ظاہر کرنے کے لئے سب سے اول تو وہ پہلو ہے کہ تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ۔اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلاؤ“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 615 الحكم (31 جنوری 1906) آپ نے یہاں دو باتیں بیان فرمائیں اور اسی قرآنی حکم کے تحت بیان فرما ئیں۔کہ پہلے اپنے نمونے درست کرو، اپنی حالت درست کرو، اپنے اعمال درست کو، پھر دعوت الی اللہ کر تبلیغ کرو، اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے گا۔انشاء اللہ پھر آپ فرماتے ہیں: ”آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینے کی کیا حالت ہوگئی تھی۔ہر ایک حالت میں تبدیلی ہے۔پس اس تبدیلی کو مدنظر رکھو اور آخری وقت کو ہمیشہ یادرکھو۔آنے والی نسلیں آپ لوگوں کا منہ دیکھیں گی۔اور اس نمونہ کو دیکھیں گی۔اگر تم پورے طور پر اپنے