خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 647 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 647

$2004 647 خطبات مسرور رکھی اور اپنے ذاتی اور دنیاوی مفاد کو دین پر مقدم رکھتے ہوئے انہیں کو ترجیح دی اور اس کے علاوہ کوئی ذہن میں خیال نہیں ہے۔پھر یہ کہ دینی معاملے میں بھی جو تھوڑا بہت دین تھا اس میں بھی دنیا غالب آ گئی۔اور خدا کے خوف کے بجائے ، خدا کے خوف سے زیادہ مُلاں کے خوف کو دل میں جگہ دیتے ہوئے ملاں کے پیچھے چل پڑے تو پھر کس طرح نیکیوں میں بڑھنا ان کا صطح نظر ہوسکتا ہے۔آج اگر نیکیوں میں بڑھنا کسی کا طمح نظر ہے تو صرف احمدی کا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا نیکیاں کیا ہیں جن میں بڑھنا ہے، جن میں دوسروں سے آگے نکلنا ہے۔کیا نیکیاں دوسرے نہیں کر رہے اور آج ہر احمدی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کرے۔وہ نیکیاں یہ ہیں کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی ہو۔حقوق اللہ کی ادائیگی کیا ہے۔حقوق اللہ کی ادائیگیاں یہ ہیں کہ اللہ کا خوف اور اس کی خشیت دل میں رکھتے ہوئے اس کی عبادات بجالائیں اور کوئی موقع اس کی عبادت کا اس کا قرب پانے کا اس کے ذکر سے اپنی زبانوں کو تر کرنے کا نہ چھوڑیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نمازوں کو جو اس کا حق ہے اس طرح ادا کرو۔مردوں کے لئے نمازوں کا یہ حق ہے کہ پانچ وقت مسجد میں جا کے باجماعت ادا کی جائیں۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اس زمانے میں یہ ادا کرنی مشکل ہیں، ہر جگہ مسجد نہیں ہوتی۔مسجد نہیں ہوتی تو کوئی نہ کوئی جگہ تو ہوتی ہے۔مسلمان کے لئے تو ساری زمین ہی مسجد بنائی گئی ہے۔کام کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت کام چھوڑ نا بڑا مشکل کام ہے۔گویا کہ اللہ تعالیٰ کو پتہ نہیں تھا کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں ملازم پیشہ کو اور کاروباری لوگوں کو کام بہت زیادہ کرنا پڑے گا اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اللہ تعالیٰ تو غیب کا علم جانتا ہے اس کے تو علم میں ہے کہ کل کیا ہونے والا ہے اور سو سال کے بعد کیا ہونے والا ہے اور ہزار سال کے بعد کیا ہونے والا ہے۔اور اس کے بعد کیا ہونا ہے اور کیسا زمانہ آنا ہے لیکن اس کے باوجود فرمایا کہ نمازوں کی طرف توجہ کرو گے تو نیکیوں پر قدم مارنے والے کہلاؤ گے،