خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 646
$2004 646 خطبات مسرور جاتی ہیں۔اپنے مفاد حاصل کرنے کے لئے ان کو نام نہاد امداد دی جاتی ہے۔پھر ان کے وسائل کو اپنے ملکوں کی ترقی کے لئے خرچ کیا جاتا ہے اور غریب ملکوں کے عوام غربت اور فاقے کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں اور کر رہے ہیں۔اگر کوئی آواز اٹھائے تو اسے بندوق کی نوک پر چپ کرایا جاتا ہے۔اور پھر یہ دعویٰ کہ ہم دنیا میں امن قائم کر رہے ہیں اور نیکی پھیلا رہے ہیں، غریب انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، یہ سب جھوٹے دعوے اور ڈھکو نسلے ہیں۔یہ لوگ اس طرح کر ہی نہیں سکتے۔آج اگر حقیقت میں نیکیاں قائم کر سکتے ہیں تو پکے اور سچے مسلمان ہی کر سکتے ہیں۔اور سچے مسلمان سوائے احمدی کے کوئی نہیں۔کیونکہ انہوں نے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور غلام کو مانا ہے۔چنانچہ دیکھ لیں تمام مسلمان ممالک باوجود اس کے کہ بعض کے پاس وسائل بھی ہیں، نیکیاں نہیں کر سک رہے۔ایک دوسرے کا خیال نہیں رکھ سک رہے۔غریب کی امیر ملک کوئی خدمت نہیں کرتے۔ان کی ان کے دل میں کوئی فکر نہیں۔اپنی امارت سے غریب بھائیوں کی ،غریب ملکوں کی مدد کرنے کی بجائے خود اپنے نفس کی ہوس میں مبتلا ہیں۔اور جتنے پیسے والے مسلمان ممالک ہیں ان کو دیکھ لیں یہ سوائے اپنی دولت اکٹھی کرنے کے یا غریب ملک میں جس کو اختیار مل جائے وہ اپنی ذات کے لئے دولت اکٹھی کرنے کے اور کچھ نہیں کرتا۔نہ حقوق اللہ کی فکر ہے، نہ حقوق العباد کی فکر ہے۔اور اگر ان میں سے کوئی اسلام کی خدمت کا دعویدار ہے بھی ، اگر کوئی دعویٰ لے کر اٹھتا بھی ہے تو وہ صرف یہ سمجھتا ہے کہ تشدد سے ہی اسلام کا غلبہ ہو گا۔اور صرف تشدد پسندی توپ ، بندوق کے گولے کے علاوہ بات نہیں کرتا۔اور یہ لوگ اسلام کے حسن کو دکھانے کی بجائے اس کی نہایت بھیانک شکل پیش کرنے والے ہیں۔تو یہ لوگ تو نیکیاں قائم کرنے والے نہیں ہیں اور ہو بھی نہیں سکتے۔کیونکہ جب انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کی نافرمانی کی اور آپ کے غلام صادق کو اور آپ کے عاشق صادق کو نہ صرف مانا نہیں بلکہ اس کی مخالفت بھی کی اور اس میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں