خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 614 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 614

$2004 614 خطبات مسرور دور گزر گیا جس میں عملاً مسلمان اکثریت دین کو بھلا بیٹھی تھی۔پھر اپنے وعدوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور آپ نے ایک جماعت قائم فرمائی جس نے دنیا کی رہنمائی کا کام اپنے ذمہ لیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے جو لوگ بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جماعت میں داخل ہو گئے وہ گمراہی اور ضلالت پھیلانے کے لئے تو اکٹھے نہیں ہوئے بلکہ دنیا کو خدائے واحد کی پہچان کروانے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔اس لئے اس جماعت کے اندر بھی وہی رہ سکتے ہیں جو کامل وفا اور اطاعت کے نمونے دکھانے والے بھی ہوں۔اور جب ایسے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔پس ہر ایک جو وفا اور اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم نہیں کرتا وہ خود اپنا نقصان کر رہا ہے۔اس لئے ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ برکت ہمیشہ نظام جماعت کی اطاعت اور اس کے ساتھ وابستہ رہنے میں ہی ہے۔اس لئے اگر کبھی کسی کے خلاف غلط فیصلہ ہو جاتا ہے، تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے ، بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ہر ایک کی اپنی سمجھ ہے۔قضاء نے اگر کوئی فیصلہ کیا ہے اور ایک فریق کے مطابق وہ بھی نہیں ہے پھر بھی اس پر عمل درآمد کروانا چاہئے اور دعا کریں کہ قاضیوں کو اللہ تعالیٰ صحیح فیصلے کی توفیق دے۔قاضیوں کو بھی غلطی لگ سکتی ہے لیکن ہر حالت میں اطاعت مقدم ہے۔بعض لوگ اتنے جذباتی ہوتے ہیں کہ بعض فیصلوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت سے منسوب ہونے سے ہی انکاری ہو جاتے ہیں۔تو یہ بدنصیبی ہے، جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ ، اپنے آپ کو آگ میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔دنیا کے چند سکوں کے عوض اپنا ایمان ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔جماعت میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شامل ہوئے ہیں، کسی عہدیدار کی جماعت میں تو شامل نہیں ہوئے کہ اس کی غلطی کی وجہ سے اپنا ایمان ہی ختم کر لیں۔بہر حال عہدیداروں کو بھی احتیاط کرنی چاہئے اور کسی کمزور ایمان والے کے لئے ٹھوکر کا باعث نہیں بننا چاہئے۔