خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 613 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 613

613 $2004 خطبات مسرور ہم خوش قسمت ہیں کہ زمانے کے امام کی جماعت میں شامل ہیں جس نے ہمیں انتہائی باریکی میں جا کران امور کی طرف توجہ دلائی ہے جس سے ہم اللہ اور اس کے رسول کے اطاعت گزار کہلا سکیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” اگر حاکم ظالم ہو تو اس کو برا نہ کہتے پھرو بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو خدا اس کو بدل دے گا یا اسی کو نیک کر دے گا۔جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بدعملیوں کے سبب آتی ہے ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے۔مومن کے لئے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو“۔(تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد دوم صفحه 246 زیر آیت سورة النساء :60) فرمایا کہ چاہے حاکم ہو یا امیر ہو یا کوئی عہدیدار ہو کوئی افسر ہو اگر تم پاک ہو اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیتے ہو اور دعائیں کرتے ہو پھر یا تو اللہ تعالیٰ اس حاکم کو ، اس افسر کو ، اس عہد یدار کو، اس امیر کو بدل دے گا یا پھر نیک کر دے گا اس کی طبیعت میں تبدیلی پیدا کر دے گا۔فرمایا کہ بعض دفعہ ابتلاء جو آتے ہیں یہ اپنی ہی بدعملیوں کی وجہ سے آتے ہیں۔اپنی ہی کچھ حرکتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ابتلاء میں ڈال دیتا ہے۔اس لئے خود بھی استغفار کرتے رہنا چاہئے۔نیکیوں پر قائم ہونے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور اللہ اور رسول دونوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ میری امت کو ضلالت اور گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔اللہ تعالیٰ کی۔جماعت کے ساتھ ہوا کرتی ہے۔مَنْ شَدَّ شُدَّ إِلَى النَّارِ۔جو شخص جماعت سے الگ ہواوہ گویا آگ میں پھینکا گیا۔(ترمذی کتاب الفتن باب في لزوم الجماعة) مدد تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ایک ہزار سال کے تاریک زمانے کا