خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 599
$2004 599 خطبات مسرور بہت عام ہے اور محبتیں بھی ایسی مل جاتی ہیں جہاں شراب پینے والے مل جاتے ہیں اس لئے اس بارے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔فرمایا کہ : ” شراب جو ام الخبائث ہے اسے حلال سمجھا گیا ہے اس سے انسان خشوع و خضوع سے جو کہ اصل جز و اسلام ہے بالکل بے خبر ہو جاتا ہے۔ایک شخص جو رات دن نشہ میں رہتا ہے ہوش اس کے بجاہی نہیں ہوتے تو اسے دوسری بدیوں کے ارتکاب میں کیا رکاوٹ ہوسکتی ہے۔موقع موقع پر ہر ایک بات مثل، زنا، چوری، قمار بازی و غیرہ کر سکتا ہے۔ہماری شریعت میں قطعا اس کو بند کر دیا ہے۔یہاں تک لکھ دیا ہے کہ یہ شیطان کے عمل سے ہے تا کہ خدا کا تعلق ٹوٹ جاوے“۔تو شراب کا جو نشئی ہے وہ بھی مختلف جرائم میں گرفتار ہوتا ہے۔بلکہ ان ملکوں میں بھی جہاں جہاں شراب کی اجازت ہے آپ دیکھیں گے کہ بعض لوگ نشے میں بعض قسم کی حرکات کر جاتے ہیں اور پھر جیلوں میں چلے جاتے ہیں۔اور پھر یہاں کے معاشرے کے مطابق بعض شریف لوگ بظاہر شراب کے نشے میں دھت ہوتے ہیں اور سڑکوں پر گرے پڑے ہوتے ہیں، پولیس ان کو اٹھا کے لے جاتی ہے۔پھر جوا وغیرہ ہے یہ بھی لغویات ہیں۔یہ بھی اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔شرابیوں کو عام طور پر جوا کھیلنے کی بھی عادت ہوتی ہے۔کسی بھی نشہ کرنے والے کو عادت ہوتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسے بنیں۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ سمجھایا کہ یہ تمام چیزیں جو ہیں یہ لغویات اور فضولیات میں شمار ہیں اس لئے ان سے بچو۔پھر آپ فرماتے ہیں: کہ اللہ اللہ ! کیا ہی عمدہ قرآنی تعلیم ہے کہ انسان کی عمر کو خبیث اور مضر اشیاء کے ضرر سے بچالیا۔یہ منشی چیزیں شراب وغیرہ انسان کی عمر کو بہت گھٹا دیتی ہیں اس کی قوت