خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 598
$2004 598 خطبات مسرور اپنی نوکریوں سے بھی گئے ، اپنے کاروباروں سے بھی گئے ، اپنے گھروں سے بھی بے گھر ہوئے اور زندگیاں برباد ہوئیں۔بیوی بچوں کو بھی مشکل میں ڈالا۔خود پارکوں، فٹ پاتھوں یا پکیوں کے نیچے زندگیاں گزار رہے ہیں۔گندے غلیظ حالت میں ہوتے ہیں۔لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ڈسٹ بنوں (Dust Bins) سے گلی سڑی چیزیں چن چن کے کھا رہے ہوتے ہیں۔تو یہ سب اس لغو عادت کی وجہ سے ہی ہے۔اس لئےکسی بھی لغو چیز کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے۔یہی چھوٹی چھوٹی باتیں پھر بڑی بن جایا کرتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”حدیث میں آیا ہے ومن حُسْنِ الْإِسْلَامِ تَرْكُ مَالَا يَعْنِيْهِ یعنی اسلام کا حسن یہ بھی ہے کہ جو چیز ضروری نہ ہو وہ چھوڑ دی جاوے۔اسی طرح پر یہ پان، حقہ زردہ ( یعنی تمبا کو جو پان میں کھاتے ہیں) افیون وغیرہ ایسی ہی چیز میں ہیں۔بڑی سادگی یہ ہے کہ ان چیزوں سے پر ہیز کرے کیونکہ اگر کوئی اور بھی نقصان ان کا بفرض محال نہ ہو تو بھی اس سے ابتلا آ جاتے ہیں اور انسان مشکلات میں پھنس جاتا ہے مثلاً قید ہو جاوے تو روٹی تو ملے گی لیکن بھنگ چرس یا اور اشیاء نہیں دی جائیں گی۔یا اگر قید نہ ہو (اور ) کسی ایسی جگہ میں ہو جو قید کے قائمقام ہوتو پھر بھی مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں۔عمدہ صحت کو کسی بیہودہ سہارے سے کبھی ضائع کرنا نہیں چاہئے۔شریعت نے خوب فیصلہ کیا ہے کہ ان مضر صحت چیزوں کو مضر ایمان قرار دیا ہے اور ان سب کی سردار شراب ہے۔یہ سچی بات ہے کہ نشوں اور تقویٰ میں عداوت ہے۔افیون کا نقصان بھی بہت بڑا ہوتا ہے۔طبی طور پر یہ شراب سے بھی بڑھ کر ہے اور جس قدر قوی لے کر انسان آیا ہے ان کو ضائع کر دیتی ہے۔(ملفوظات جلد2 صفحه 219 الحكم 10 جولائی (1902 اور اب تو افیون سے بھی زیادہ خطرناک نشے پیدا ہو چکے ہیں۔پس ان لغویات سے بچنے والے ہی تقویٰ پر قائم رہ سکتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والوں میں شمار ہو سکتے ہیں۔یہاں جس طرح فرمایا کہ افیون کا نشہ شراب سے بڑھ کر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شراب کبھی پی لی تو کوئی حرج نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یہ حرام ہے۔ان ملکوں میں کیونکہ شراب