خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 571 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 571

$2004 571 خطبات مسرور تھیلا پکڑ لیا اور فرمایا کہ اب مجھے دے دو کیونکہ جب تک میں نے تمہیں پیسے نہیں دیئے تھے، یہ سامان میرا نہیں تھا۔یہ تمہارا تھا اور اب پیسے میں نے ادا کر دیئے ہیں ،اس لئے یہ اب مجھے دے دو۔تو ایسی مثالیں اگر معاشرے میں قائم ہونے لگ جائیں تو بہت سارے جھگڑے فساد کبھی پیدا ہی نہ ہوں۔تو یہ چند باتیں تھیں جو میں نے قرض دینے والے اور قرض لینے والے کو کیا طریق اختیار کرنا چاہئے ، اس کے بارے میں کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا طریق سکھایا ہے، جس پر عمل کر کے ہم معاشرے میں کسی قسم کی بدمزگی پیدا نہ ہونے دیں۔اب اس ضمن میں چند باتیں اور کرنا چاہتا ہوں کہ قرض دینے والا اپنے مقروض سے کیا سلوک کرے اور جس نے قرض دینا ہے اس نے کس طرح اس کی واپسی کی فکر کرنی چاہئے تا کہ باہم محبت اور پیار اور بھائی چارے کی فضا قائم رہے کسی بھی قسم کے لڑائی جھگڑے اور مقدمہ بازی کی نوبت نہ آئے تو پہلے جو قرض خواہ یا قرض دینے والا ہے اس کے بارے میں کچھ کہوں گا کہ اس کو کس حد تک اپنے قرض کے مطالبے میں نرمی کرنی چاہئے سہولت دینی چاہئے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ۔وَانْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴾ (البقرة:281) جب کوئی تنگدست ہو تو اسے آسائش تک مہلت دینی چاہئے اور اگر تم خیرات کر دو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اگر تم کچھ علم رکھتے ہو یعنی قرض خواہ کو کہا گیا ہے کہ اگر ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ قرض دار بہت تنگدست ہو تو بہتر یہ ہے کہ یا تو اس کو سہولت دو کہ وہ آسان قسطوں پر قرض واپس کر دے یا پھر اگر وہ بہت ہی زیادہ مجبور ہے اور تم اس قابل ہو کہ اس کا قرض معاف کر سکو اور تمہارے حالات ایسے ہیں کہ تمہیں کوئی فرق نہ پڑتا ہو تو بہتر یہ ہے کہ معاف کر دو اور یادرکھو کہ تمہیں یہ پتہ ہونا چاہئے اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے بے پناہ فضلوں کو حاصل کرنے والے ہو گے۔اور اگر تم اپنے مقروض کو تنگ کرو گے سختی کرو