خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 570 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 570

$2004 570 خطبات مسرور لیتے ہیں کہ واپس جا کے ادا کر دیں گے یا اگر کسی نے اپنے وہاں کسی عزیز کو رقم دینی ہو تو کہہ دیتے ہیں اتنی رقم مجھے دے دو میں پاکستان جا کے اس کو روپوں میں دے دوں گا۔یا کسی ملک میں بھی جہاں رہتے ہوں وہاں جا کر تمہارے عزیز رشتہ دار کو وہاں کی مقامی کرنسی میں دے دوں گا۔اور پھر بعض دفعہ ہوتا یہ ہے کہ واپس پہنچ کے ٹال مٹول سے کام لینے لگ جاتے ہیں کہ ابھی انتظام نہیں ہوا اگلے مہینے یا دو مہینے بعد دے دوں گا۔تو بعض دفعہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں پھر رنجشیں پیدا کرتی ہیں۔بہر حال ایسی صورت میں بھی تحریر بنا لینی چاہئے اور دینے والا جس کو رقم دی گئی ہے اس سے تحریرلکھوائے کہ اتنی رقم فلاں کرنسی میں فلاں رشتہ دار کودینی ہے۔اس طرح کی کوئی تحریر بن سکتی ہے۔اس طرح کریں گے تو بہت سارے جھگڑے، رنجشیں ختم ہو جائیں گی بلکہ پیدا ہی نہیں ہوں گی۔یہاں بھی اکثر تو مہمان چلے گئے ہیں کچھ ٹھہرے بھی ہوئے ہیں جلسے پر بھی لوگ آتے ہیں۔جلسے پر مہمان آئے ہوتے ہیں۔ان سے میں یہی کہوں گا کہ وہ اپنے عزیزوں، رشتہ داروں یا دوستوں سے سوائے اشد مجبوری کے کسی بھی قسم کی رقم کا مطالبہ نہ کریں۔قرض یا ادھار سے بچنے کی کوشش کریں، جتنا زیادہ پر ہیز کریں گے اتنا ہی زیادہ بہتر ہوگا۔ادھار کے ضمن میں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔کسی نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ شروع میں جب ربوہ آباد ہوا ہے، چند ایک اس وقت ربوہ میں دکا نہیں ہوتی تھیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بازار سودا لینے کے لئے گئے ، ان کے ساتھ خدمتگار تھا۔تو میاں صاحب نے بازار سے کچھ سودا خریدا۔جب رقم کی ادائیگی کرنے لگے تو رقم دیکھی تو پوری نہیں تھی۔خیر جو صاحب ساتھ تھے ، جو خدمتگار ساتھ تھے انہوں نے وہ رقم ادا کر دی اور سامان کا بیگ اٹھا لیا۔گھر پہنچے تو انہوں نے وہ بیگ اندر دینا چاہا تو میاں صاحب نے کہا۔نہیں ٹھہریں، دروازے کے باہر رکیں۔میں آتا ہوں۔اندر گئے اور اندر سے جا کے رقم لے کر آئے اور ان کے ہاتھ پر رکھ دی اور پھر سامان کا