خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 567
$2004 567 خطبات مسرور لینے والے پر ڈال دی ہے جیسا کہ فرماتا ہے کہ ﴿وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا۔یعنی وہ لکھوائے جس کے ذمے دوسرے کا حق ہے۔اور لکھوانے والا اللہ، اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرے اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے۔یعنی جس نے قرض لیا ہے وہ لکھوائے۔اس کی وجہ مثلاً ایک تو یہ ہے کہ جس کے ذمے قرض ہے وہ خود ہی وضاحت کرے کہ اتنا قرض میں نے لیا ہے اور اس قرض کی جو رسید بنے اس میں واپسی کی شرائط بھی اس طرح ہی لکھی جائیں جس طرح قرض لینے والے نے کہی ہیں مثلاً اگر قسطیں ہیں تو لکھا جائے کہ اتنی قسطیں ہیں۔عرصہ معین ہے تو لکھا جائے کہ اتنا عرصہ ہے وغیرہ۔تا کہ قرض لینے والا یہ نہ کہے کہ مجھ پر ظلم ہوا ہے۔اور زبردستی یا دھوکے سے بعض الفاظ گھما پھرا کر معاہدے میں ایسے لکھ دیئے گئے ہیں جو مجھ پر اثر انداز ہورہے ہیں۔تو اس سے بچنے کے لئے کہا کہ قرض لینے والا خود ہی الفاظ بنالے اور یہ بات بھی صرف آپ کو اسلامی معاشرے میں ہی نظر آئے گی ، اسلام کی تعلیم میں ہی نظر آئے گی پھر قرض دینے والے کو ثواب کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔کہ اگر وہ قرض دیتے وقت سہولت والی شرطیں منظور کر لے تو اس کو ثواب ملے گا۔آجکل دنیا میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ قرض دینے والا ، اپنی شرطیں ڈکٹیٹ کرا رہا ہوتا ہے۔اسلام کی تعلیم میں قرض لینے والا اپنی شرائط پر قرض لے رہا ہے۔اور قرض دینے والے کو یہ حکم ہے کہ تم شرائط مان لو تم کو اس کا بڑا اجر ملے گا۔(آگے اس بارے میں کچھ حدیثوں کا ذکر کروں گا)۔پھر یہ کہ قرض لینے والا جب اپنی شرائط پر قرض لے لے گا تو پھر پابند بھی ہوگا کہ ان کو پورا کرے۔اس کو پھر یہ شکوہ نہیں ہوگا اور نہ ہونا چاہئے کہ مجھ پر ظلم ہوا ہے۔پھر قرض خواہ کے خلاف کسی قسم کی شکایت نہیں ہوگی۔تو یہ اسلامی معاشرے کی خوبصورتی ہے کہ ضرورت مند کے لئے ضرورت مہیا کرنے کے ضرورت باہم پہنچانے کے سامان پیدا کئے گئے ہیں۔پھر یہ کہ اگر دونوں کو لکھنا نہ آتا ہوتو اپنے واقفوں میں سے اپنے قریبیوں میں سے اپنے عزیزوں میں سے کسی کو تلاش کر لو جولکھنا جانتا