خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 566 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 566

$2004 566 خطبات مسرور تحریر لی جائے۔یا پھر کوئی چیز استعمال کے لئے لی ہے اس کے بارے میں تحریر لی جائے مثلاً بعض دفعہ بیاہ شادیوں وغیرہ پر بھی ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کے لئے لی جاتی ہیں تو وہ بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔وہ بھی لکھ لینی چاہئیں کیونکہ ان میں بھی بعض دفعہ بدظنیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔بعد کی بدظنیوں سے بچنے کے لئے بہترین طریق ہے کہ چھوٹی سی تحریر بنالی جائے۔اللہ تعالیٰ کا حکم تو ہے کہ لین دین چاہے چھوٹا ہو یا بڑا ان جھگڑوں سے بچنا ہے تو لکھا کرو۔جیسا کہ فرمایا کہ ﴿وَلَا تَسْتَمُوا أَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ که لین دین خواه چھوٹا ہو یا بڑا اسے اس کی مقررہ میعاد پر یعنی جب تک کا معاہدہ ہے وہ بھی لکھو اور معاہدے کی تفصیل بھی لکھو، اور اس سے اکتانا نہیں چاہئے۔یا اس کو معمولی چیز نہیں سمجھنی چاہئے۔کیونکہ اکتانے کا مطلب تو یہ ہے کہ شیطان کسی وقت بھی تمہارے اندر بدظنیاں پیدا کر دے گا اور بظاہر جو تم بلند حوصلگی کا مظاہرہ کر رہے ہو یا جو تم نے کیا ہے یہ تمہیں ایک وقت میں ایسے مقام پر لا کر کھڑا کر دے گا کہ بلند حوصلگی تو ایک طرف رہی تم ادنی اخلاق کا بھی مظاہرہ نہیں کر رہے ہو گے۔اور اس طرح عموماً ہوتا ہے، عموماً یہ باتیں ہوتی ہیں۔یعنی تصور میں باتیں نہیں میں کر رہا ایسے معاملات آتے ہیں اور کئی جگہ ایسے لین دین میں، ایسے معاملوں میں کئی لوگوں کے قضا میں، امور عامہ میں، جماعت میں یا ملکی عدالتوں میں کیس چلتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔وہی جو ایک وقت میں ہم پیالہ ہم نوالہ ہوتے تھے۔اکٹھے بیٹھتے تھے، اکٹھے کھاتے تھے، پیتے تھے، بڑی پکی دوستیاں ہوتی تھیں، ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوئے ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں بھی تلاش کرنی پڑیں تو تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔تو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس کو اپنی مخلوق کا علم ہے کہ کس قسم کے ذہن میں ایسے لین دین کی تحریر لکھنے کا طریق بھی بتا دیا کہ کس طرح لکھی جائے اور کون لکھوائے۔تو تحریر لکھوانے کی ذمہ داری قرض