خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 487 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 487

487 $2004 خطبات مسرور وہ میری اطاعت کرتا ہے اور جو میری اطاعت کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔یا جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔تو ایسی مجلسوں میں ایسے مشورے میں نہ بیٹھنے کا حکم ہے۔احتیاط کا تقاضا یہی ہے۔کیونکہ یہ لوگ جب مجلسیں لگا کر اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں تو پھر امیر کا بھی اور نظام کا بھی تمسخر اڑا رہے ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کو بھی ، یہ جہاں بھی ہوں، خدا کا خوف کرنا چاہئے۔پھر بعض مجالس غیروں کی ہیں آجکل کے معاشرے میں تو انسان بہت زیادہ گھل مل گیا ہے تو یہاں بھی جب دین کے خلاف بات سنو تو اٹھ جاؤ۔جہاں دین کی غیرت دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں ضرور دکھانی چاہئے۔لڑنا ضروری نہیں ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ ایسی مجلس سے اٹھ جایا جائے، بیزاری کا اظہار کیا جائے تا کہ ان کو بھی پتہ لگے کہ اس مجلس میں آپ ہیں کہ آپ نے اس سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” ہمارا مذہب تو یہ ہے اور یہی مومن کا طریق ہونا چاہئے کہ بات کرے تو پوری کرے ورنہ چپ رہے۔جب دیکھو کہ کسی مجلس میں اللہ اور اس کے رسول پر ہنسی ٹھٹھا ہورہا ہے تو یا تو وہاں سے چلے جاؤ تا کہ ان میں سے نہ گنے جاؤ اور یا پھر پورا پورا کھول کر جواب دو۔دو باتیں ہیں یا جواب یا چپ رہنا۔یہ تیسرا طریق نفاق ہے کہ مجلس میں بیٹھے رہنا اور ہاں میں ہاں ملائے جانا۔دبی زبان سے اختفاء کے ساتھ اپنے عقیدے کا اظہار کرنا۔(ملفوظات جلد نمبره صفحه 449 بدر ١٤ مارچ ۱۹۰۸ تو یہ اصول اپنوں کی مجلس میں بھی جہاں نفاق دیکھو وہاں ضرور یہی رویہ اختیار کرنا چاہئے اور غیروں کی مجلس میں بھی۔یہی استعمال کرنا چاہئے۔دین کے معاملے میں کبھی بھی بے غیرتی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔قرآن میں یہی طریق ہے کہ بیزاری کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ جاؤ۔حضرت ضرغامہ بیان کرتے ہیں کہ: ” میرے والد صاحب اپنے باپ سے روایت کرتے