خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 439

$2004 439 خطبات مسرور کرتی تھی۔اس لئے آپ کا معمول تھا کہ بہت سی موم بتیاں ، ضروری ادویات اور دیا سلائی وغیرہ تک ساتھ رکھا کرتے تھے۔تا کہ جب کسی چیز کی ضرورت ہو تلاش نہ کرنی پڑے۔اور انہوں نے لکھا ہے کہ چونکہ اس وقت سیاہی بھرے ہوئے پینوں (Pens) کا رواج نہیں تھا تو اس لئے قلم کاغذ دوات بھی ساتھ رکھا کرتے تھے۔اور لمبے سفروں میں جو تبلیغی سفر تھے عام طور پر حضرت ام المومنین اور بچوں کو ساتھ رکھتے تھے اور یکے (ٹانگے ) کی سواری میں آپ اندر بیٹھا کرتے تھے۔اور ریلوے کے سفر میں سیکنڈ کلاس میں ابتداء اور پھر تھرڈ اور انٹر میں سفر کیا کرتے تھے۔مگر آپ تھرڈ انٹریا سیکنڈ کی تمیز یا خصوصیت نہیں کرتے تھے بلکہ صرف چونکہ ان کلاسوں میں بیت الخلاء کی زیادہ سہولت ہوتی ہے اس لئے اس کو پسند کرتے تھے اور ضرورت پڑتی تھی اور عام طور پر آپ کا طریق یہ تھا کہ علی اصبح سفر پر روانہ ہوتے تھے (اسی حدیث کی روشنی میں ) جب ریلوے سفر ہوتا تو ریل کے اوقات کے لحاظ سے بعد دو پہر بھی روانہ ہوتے۔رات کے پہلے حصے میں سفر کو پسند نہیں فرماتے تھے کہ رات کے پہلے حصے میں سفر کیا جائے۔بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ تھوڑی دیر آرام کر کے پھر سفر کرنا چاہئے۔وہی جو میں نے بات آپ سے کی کہ کچھ دیر نیند پوری کر کے پھر سفر کرنا چاہئے۔اور ثابت نہیں ہے کہ رات کے ابتدائی حصے میں آپ نے سفر کیا ہو۔وہ لکھتے ہیں کہ اس سے میری مراد یہ ہے کہ یہ کبھی نہیں ہوا کہ آپ نے سفر کا آغاز رات کے ابتدائی حصے میں کیا ہو۔ریل کے سفر میں بھی اس کو محوظ رکھتے تھے۔پھر ایک روایت ہے آخری روایت۔حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے سیر و سیاحت کی اجازت دیجئے۔آپ نے فرمایا میری امت کی سیر و سیاحت اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد ہے۔(سنن ابو داؤد كتاب الجهاد باب في النهي عن السياحة تو اس حدیث میں ہمیں ایک یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تمہارے جو بھی سفر ہیں ایک بات یاد