خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 438
$2004 438 خطبات مسرور صلى الله کے سفر شروع کرنے میں بہت برکت ہے۔آدمی اس دعا کا حقدار بن جاتا ہے جو آنحضرت علی کے نے اپنی امت کے لئے کی۔لیکن یہ ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ برکتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہیں۔اس لئے یہ ہمیشہ مدنظر رہنا چاہئے کہ سفر شروع کرتے وقت بھی اور سفر کے دوران بھی اور واپسی پر بھی کہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی عبادت سب سے اول ہے۔جب اس سوچ کے ساتھ آپ اپنے کاروباری سفر کریں گے تو ان میں پہلے سے بہت زیادہ برکت پڑے گی۔کئی لوگ ملتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں یا ملازمتوں پر جاتے ہیں با قاعدگی سے روزانہ صبح اٹھنے والے بھی ہیں لیکن ان کا طریق یہ ہو گیا ہے کہ گھر سے نماز سے چند منٹ پہلے نکلے اور راستے میں کار چلاتے وقت ٹکریں مار کے نماز پڑھ لی یا کچھ لوگ کبھی نہیں بھی پڑھتے تو یہ بالکل غلط طریق ہے۔یا تو گھر سے نماز پڑھ کر اور دعا کر کے سفر شروع کریں یا راستے میں رک کر نماز ادا کریں۔لیکن نماز کو نماز سمجھ کر پڑھنا چاہئے نہ کہ جان چھڑانے کے لئے یا مجبوری کے تحت کہ نماز پڑھنی ہے گلے سے اتارو۔اس طرح ٹکریں نہیں مارنی چاہئیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس طرح نہ پڑھو کہ لگے کہ مرغی دانہ کھا رہی ہے ، صرف ٹکریں ہوں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے سفر کا کس طرح اہتمام فرماتے تھے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تحریر فرماتے ہیں کہ ان سفروں میں جو آپ نے بعثت سے پہلے زمانے میں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کی اطاعت و پیروی کا نمونہ دکھانے کے لئے کئے آپ کے معمولات بہت مختصر تھے۔کسی قسم کا سامان آپ ساتھ نہیں لیتے تھے۔صرف وہی لباس ہوتا تھا جو آپ پہنے ہوئے ہوتے تھے اور ایک مختصر سا بستر ، ایک لوٹا اور ایک گلاس بھی لیا کرتے تھے۔اور جو بعثت کے بعد کے سفر ہیں ان کی نوعیت پھر تبدیل ہو گئی۔کیونکہ سفروں میں بہت سارے لوگ آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔قافلہ ہوتا تھا، ایک جماعت ساتھ ہوا