خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 34

مسرور 34 $2004 میں یقیناً جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریا کاری کے موقعوں میں تو صد ہا روپیہ خرچ کریں۔اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی نخست اور بخل کو نہ چھوڑے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ہمارے نبی ہے نے بھی کئی مرتبہ صحابہ پر چندے لگائے۔جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے۔۔۔۔جو ہمیں مدد دیتے ہیں۔آخر وہ خدا کی مدد دیکھیں گے۔(مجموعه اشتهارات جلد سوم صفحه ۱۵۶) جماعت میں بہت سے خاندان اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کے بزرگوں کی ایسی قربانیوں اور مدد کی وجہ سے وہ آج مالی لحاظ سے کہیں کے کہیں پہنچے ہوئے ہیں۔اگر ہم اپنی نسلوں کو بھی دینی اور دنیاوی لحاظ سے خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی چاہئے کہ قربانیوں کے یہ معیار قائم رکھیں اور قائم رکھتے چلے جائیں اور اپنی نسلوں میں بھی اس کی عادت ڈالیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: پانچواں وسیلہ اصل مقصود کے پانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجاہدہ ٹھیرایا ہے یعنی اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی طاقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی عقل کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اس کو ڈھونڈا جائے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اپنے مالوں اور اپنی جانوں اورا۔اور اپنے نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کرو اور جو کچھ ہم نے عقل اور علم اور فہم اور ہنر وغیرہ تم کو دیا ہے وہ سب کچھ خدا کی راہ میں لگاؤ۔جو لوگ ہماری راہ میں ہر ایک طور سے کوشش بجالاتے ہیں ہم ان کو اپنی راہیں دکھا دیا کرتے ہیں۔“ ( اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ٤١٩،٤١٨) پھر فرمایا: میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش