خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 33

$2004 33 خطبات مسرور پھر ایک واقعہ ہے حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب کا۔ان کا تھوڑ اسا تعارف بھی کرا دوں۔یہ حضرت ام ناصر جو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی پہلی بیگم تھیں، ان کے والد تھے اور حضرت الحي الثر خلیفہ اسیح الثالث" کے نانا ہوئے۔تو ان کے بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ: ’ جب انہوں نے ایک دوست سے حضرت مسیح موعود کا دعویٰ سنا تو آپ نے سنتے ہی فرمایا کہ اتنے بڑے دعوی کا شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور آپ نے بہت جلد حضرت مسیح موعود کی بیعت کر لی۔حضرت مسیح موعود نے ان کا نام اپنے بارہ حواریوں میں لکھا ہے اور ان کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت مسیح موعود نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ نے سلسلہ کے لئے اس قدر مالی قربانی کی ہے کہ آئندہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جب کہ آپ پر مقدمہ گورداسپور میں ہورہا تھا اور آپ کو اس میں روپیہ کی ضرورت تھی۔حضرت صاحب نے دوستوں میں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں لنگر خانہ دو جگہ پر ہو گیا ہے۔ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں اور اس کے علاوہ مقدمہ پر بھی خرچ ہو رہا ہے لہذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دن ان کو تنخواہ قریباً چار سو پچاس روپے ملی تھی۔وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت حضرت صاحب کی خدمت میں بھیج دی۔ایک دوست نے سوال کیا کہ آپ کچھ گھر کی ضروریات کے لئے رکھ لیتے تو انہوں نے کہا کہ خدا کا مسیح موعود لکھتا ہے کہ دین کے لئے ضرورت ہے تو پھر اور کس کے لئے رکھ سکتا ہوں۔غرض ڈاکٹر صاحب تو دین کے لئے قربانیوں میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت مسیح موعود کو انہیں روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہیں کہنا پڑا کہ اب آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔(تقاریر جلسه سالانه ١٩٦٢ء- انوارالعلوم جلد ٩ صفحه ٤٣٠) اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں کو بھی اسی اخلاص اور وفا کے ساتھ قربانیوں کی توفیق دے۔ان کی نسلیں اب دنیا کے بہت سے ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص اور وفا میں بہت بڑھے ہوئے بھی ہیں، اللہ تعالیٰ مزید بڑھائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: