خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 381
$2004 381 خطبات مسرور ہمارے ساتھ ملنے کے امکانات زیادہ ہیں تو یہ غلط طریق ہے۔یہ بزدلی ہے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کی کمی ہے۔اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ دلوں کو تو میں نے بدلنا ہے۔تمہارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔اس لئے ایسے موقعوں پر بھی جرات کا اظہار کرتے ہوئے کہ یہ غلط باتیں ہیں وہاں سے اٹھ جانا چاہئے۔اور ان لوگوں کا معاملہ پھر خدا پہ چھوڑ نا چاہئے۔حضرت علیؓ کا قول ہے آپ نے فرمایا دلوں کی کچھ خواہشیں اور میلان ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ کسی وقت بات سننے کے لئے تیار رہتے ہیں اور کسی و قت اس کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اس لئے لوگوں کے دلوں میں ان میلانات کے تحت داخل ہو کر اسی وقت اپنی بات کہا کرو جب کہ وہ سننے کے لئے تیار ہوں۔اس لئے کہ دل کا حال یہ ہے کہ جب اس کو کسی بات پر مجبور کیا جائے تو اندھا ہو جاتا ہے یعنی بعض دفعہ لوگ بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔تو اس قول پر عمل کرنے کے لئے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس سے بھی آپ کا رابطہ ہو رہا ہے جس کو بھی آپ نے تبلیغ کرنی ہے اس سے ذاتی تعلق ہوا اور پھر یہ ذاتی تعلق اور ذاتی رابطہ مستقل رابطے کی شکل میں قائم رہنا چاہئے۔اور موقع کے لحاظ سے موقع پا کر کبھی کبھی بات چھیڑ دینی چاہئے جس سے اندازہ ہو کہ یہ لوگوں پر اثر کرے گی۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے یا تو بزدلی دکھا دی یا پھر جوش میں پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں اور موقع و محل کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔اس سے جو تھوڑا بہت تعلق پیدا ہوا ہوتا ہے وہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔اور جس کو آپ تبلیغ کر رہے ہیں اس کو بالکل ہی پرے دھکیل دیتے ہیں۔اور دوسری بات یہ ہے کہ بعض طبیعتیں ہوتی ہیں جن کا ذاتی میلان یا رجحان ہی دین کی طرف نہیں ہوتا۔ان کو اگر شروع میں ہی تبلیغ شروع کر دی جائے تو ان کا تو اس سے کوئی تعلق ہی نہیں وہ تو لا مذہب لوگ ہیں ، وہ تو بعض خدا پر بھی یقین کرنے والے نہیں ہوتے۔اپنے مذہب سے جوان کا بنیادی مذہب ہے اس سے بھی دور ہٹے ہوئے ہوتے ہیں اور مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی تو وہ